ریکوڈک سمیت بلوچستان کے وسائل کی حفاظت کیلئے گلی کوچہ میں آواز بلند کرینگے، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ

سبی: نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ سابق سینیٹر ڈاکٹر عبدالئحی بلوچ نے کہا ہے کہ یکوڈک سمیت بلوچستان کے ساحل وسائل کی حفاظت کے لئے گلی کوچہ میں آواز بلند کریں گے 74سالوں سے بلوچستان کے معدنی وساحلی وسائل کو بے درد دی کے ساتھ لوٹ کا تسلسل آج بھی جاری ہے قومی و صوبائی اسمبلیاں بے اختیار ہیں ہم پر غیر جمہوری عوام دشمن نظام مسلط ہے نیشنل ڈیموکریکٹ پارٹی کسی صورت اپنے حق حاکمیت ساحل وسائل اختیاراتن قومی تشخص سے کبھی دستبردار نہیں ہوگی ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے قومی خبر رساں ادارے آئی این پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا سابق سینیٹر قوم پرست لیڈر ڈاکٹر عبدالئحی بلوچ نے کہا کہ 18ویں ترامیم کے مطابق معدنی وساحلی وسائل پر صوبوں کا مکمل اختیار ہے جبکہ گیس اور پیٹرول میں بھی وفاق صوبوں کو 50فیصد حصہ دینے کی پابند ہے شہید نواب اکبر خان بگٹی کی حکومت 1988میں قوم پرست جماعتوں کی قیادت میں بنی تو سیندک پروجیکٹ کا مرکزی آفس کراچی سے کوئٹہ منتقل کیا گیا مگر 16سال سے زائد عرصہ یہ منصوبہ کھٹائی کا شکار رہا بلوچستان کی قوم پرست حکومت نے سیندک پروجیکٹ بلوچستان حکومت نے اپنے زیر سایہ چلانے کی بات کی تاریخی بات ہے کہ جب سیندک پروجیکٹ سے ایک ڈالہ نکلا تو وہ عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمت 17کروڑ ڈالر لگی مگر بلوچستان حکومت کے پاس اس بروجیکٹ کو چلانے کے لئے فنڈز نہیں تھے جس پر وفاقی حکومت نے دانستہ طور پر سیندک پروجیکٹ کو اپنے قبضہ میں لے کر 2004کو چین کے حوالے کردیا اس وقت بھی بلوچستان کے قوم پرست رہنماؤں نے سخت احتجاج کیا اب چین اور اسلام آباد سیندک پروجیکٹ کے مزے لوٹ رہی ہے افسوس کی بات ہے کہ سیندک پروجیکٹ کے آس پاس کے علاقہ آج بھی محرومی اور پسماندگی کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ سوئی گیس 1952میں سوئی ڈیرہ بگٹی سے دریافت ہوئی آج تک بلوچستان کے کئی علاقوں کی عوام گیس سے محروم ہے اور نہ ہی اس کی آمدنی بلوچستان کو مل سکی ڈاکٹر عبدالئحی بلوچ نے کہا کہ 74سالوں سے غیر جمہوری عوام دشمن نظام بلوچستان کی عوام پر مسلط ہے یہاں کے محکوم قوموں بلوچ پشتوں سندھی سمیت محنت کش عوام اپنے حق حاکمیت سے بھی محرومی کا شکار ہے یہاں کبھی آئین اور قانوں کی بالا دستی نہیں رہی حکمران قوت اپنے آپ کو آئین وقانون سے بالا تر سمجھتے ہیں درحقیقت بلوچستان میں نوآبادیت نظام کی حکمرانی کی جارہی ہے اور حق محکوم کا نظام ہے ایسی بدترین آئینی معاشی سیاسی بحران عروج پر ہے بلوچستان کو اپنی کالونی سمجھتے ہیں معدنی اور ساحلی وسائل دونوں ہاتھوں سے لوٹ کا تسلسل جاری ہے اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی زمین پر بھی قبضہ گیری کی پالیسیوں سمیت حکمرانوں کا لوٹ کھسوٹ استحصال بھی جاری ہیبلوچستان کی عوام کو سازش کے تحت اقلیت میں تبدیل کیا جارہا ہے دراصل یہاں وفاقی وصوبائی اسمبلیاں برائے نام اور بے اختیار ہیں بلوچستان میں ریاست طاقت کے بل بوتے پر حکمرانی کررہی ہے 1970 کے بعد سے کوئی انتخابات صاف شفاف نہیں ہوسکے سابق سینیٹر قوم پرست لیڈر ڈاکٹر عبدالئحی بلوچ نے کہا کہ قوم پرست جماعتیں بلوچستان کی عوام ریکوڈک کے فیصلہ کو مسترد کرتی ہے قوم پرست رہنماؤں بلوچستان کی عوام بلوچستان کے خلاف ہونے والی تمام سازشیں کو ناکام بنائیں گئیں کسی صورت اپنے حق حاکمیت ساحل وسائل پر اختیارات قومی تشخص سے کبھی دستبردار نہیں ہونگے بلوچستان بھر کی عوام متحد ہوکر ریکوڈک کو فروخت کرنے کے فیصلہ کو ناکام بنائیں گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں