چین میں تعینات افغان سفیر تنخواہ نہ ملنے پر مستعفی

بیجنگ:چین میں تعینات افغان سفیر جاوید احمد قائم نے طالبان کے افغانستان میں اقتدار قائم کیے جانے کے بعد سے کئی ماہ سے سفارتی عملے کو تنخواہیں جاری نہ کیے جانے پر احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔

افغان سفیر جاوید احمد قائم نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ گزشتہ سال اگست میں طالبان کے افغانستان پر اقتدار سنبھالنے کے بعد عملے کو تنخواہیں ادا نہیں کی جاسکی ہیں۔انہوں ںے اپنے استعفے میں انکشاف کیا کہ سفارت خانے کے عملے کو مہینوں سے تنخواہ نہیں دی گئیں اور استقبالیہ پر صرف اب ٹیلی فون آپریٹر کالز کا جواب دینے کے لیے موجود ہوں گے۔

جاوید احمد قائم نے اپنی ٹوئٹ میں اس حوالے سے تفصیلات بھی شامل کی ہیں کہ گزشتہ اگست میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد انہیں کس طرح سفارت خانے کے بینک اکاؤنٹ سے اسٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنے کے لیے رقم نکالنی پڑی تھی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے انڈپینڈنٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جاوید احمد قائم نے یکم جنوری کو افغانستان کی وزارت خارجہ کو ایک خط لکھا تھا اور گزشتہ روز اپنا استعفیٰ سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا۔

رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا کہ ہمیں گزشتہ 6 ماہ سے تنخواہیں موصول نہیں ہوئیں، اس لیے ہم نے مالی مسائل کے حل کے لیے سفارت کاروں میں سے ہی ایک کمیٹی مقرر کی۔علاوہ ازیں اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ افغانستان کے بہت سے سفارتخانوں میں سفارتی عملہ غیر یقینی کا شکار ہے۔

جاوید احمد قائم نے بتایا کہ کابل پر طالبان کے اقتدار حاصل کرنے کے بعد سفارتی عملے کے متعدد اہلکاروں نے اپنی بیجنگ کی پوسٹنگ چھوڑ دی ہے اور وہ مزید کام کے لیے آمادہ نہیں۔واضح رہے کہ افغانستان میں 15 اگست 2021 کو جب طالبان نے کابل کا کنٹرول حاصل کیا تھا، جس کے فوری بعد امریکا نے افغانستان کے بیرون ملک موجود اثاثے منجمد کردیئے تھے جن میں ان کے اکاونٹ میں موجود اربوں ڈالر بھی شامل تھے بعد ازاں 19 اگست کو افغان طالبان نے ملک میں ‘افغانستان اسلامی امارات’ کے تحت حکومت قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں