معاشی مسائل کے باوجود افغانستان کی معیشت میں تیزی، جی ڈی پی 4.3 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے، ورلڈ بینک

ویب ڈیسک : افغانستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ کے نام سے ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان معیشت کو اب بھی آبادی میں تیزی سے اضافے، بڑھتے تجارتی خسارے اور غربت جیسے کئی چیلنجز درپیش ہیں۔رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 میں افغانستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) 4.3 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔ سنہ 2024 میں افغانستان کی جی ڈی پی 2.5 فیصد تھی۔

عالمی بینک کا کہنا ہے افغانستان میں معاشی پیداوار میں اضافے کی ’سب سے بڑی وجہ ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے 20 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین ہیں جن سے طلب میں اضافہ ہوا۔ خدمات اور صنعتی شعبے میں سرگرمیاں تیز ہوئیں۔‘اس کے علاوہ افغانستان کے زرعی شعبے نے گندم کی غیر معمولی پیداوار حاصل کی ہے جبکہ کان کنی اور تعمیرات کے شعبے نے بھی ترقی میں کردار ادا کیا ہے۔تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ آبادی میں تیز اضافہ، جو 2025 تک تقریباً 8.6 فیصد ہوگا، فی کس جی ڈی پی کو تقریباً چار فیصد کم کر دے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں