حکومت کے بے حسی سے بار بار دالخراش واقعہ پیش آتی ہے،مولاناعبدالقادر لونی

کوئٹہ:جمعیت علماء اسلام نظریاتی بلوچستان کے صوبائی امیر مولاناعبدالقادر لونی کی قیادت میں وفد نے گورنر بلوچستان سید ظہور آغا سے ملاقات کی وفد میں ضلع کوئٹہ کے امیر مولاناقاری مہراللہ مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید حاجی سیدعبدالستار شاہ چشتی مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ کاکڑ صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی عبیداللہ حقانی ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی حبیب اللہ صافی صوبائی سیکرٹری مالیات مولاناحافظ عبدالواحد ہاشمی شامل تھے ملاقات میں سائنس کالج بم دھماکے میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات،جے آئی ٹی کے رپورٹ،شہداء اور زخمیوں کے معاوضہ اور بہتر علاج معالجہ کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے بے حسی سے بار بار دالخراش واقعہ پیش آتی ہے سانحات کی تحقیقات ہمیشہ سردخانے کی شکار ہوئے ہیں قانون کی گرفت میں لانے کیلئے تمام وسائل بروئے کارلایا جائے اگر ملوث ملزمان گرفتار نہ ہوئے تو سڑکوں پر کارکن نکل آئیں گے اداروں کی موجودگی اور سی سی ٹی وی کیمروں میں بم دھماکے ہوتے ہیں لیکن ملزمان کی تعین نہیں ہوتی بلوچستان میں ہمیشہ سانحات کی تحقیقات ردی کی ٹوکری میں پھینکا دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ٹراما سینٹر میں ڈاکٹروں کی ہڑتال عدم حاضری اور غفلت سے ہمارے کارکن شہید ہوئے ایمرجنسی نافذ ہونے کے باوجود سنئیر ڈاکٹرز غائب تھے ٹراما سینٹر میں زبوں حالی اور علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے پر دل خون کے آنسوں روتا ہے ایک ہفتہ میں ان کی آپریشن نہیں کئے گئے سخت زخمیوں کو پہلے دن ہسپتال سے ڈسچارج کرگئے لیکن وہ آج تک سی ایم ایچ میں زیر علاج ہے چمن بم دھماکے کے بعددھرنے میں معاہدہ ہوا تھا کہ ایک ہفتہ میں جے آئی ٹی رپورٹ سامنے لائیگی لیکن رپورٹ آج تک کیوں غائب ہے اور اگر اس کی رپورٹ سامنے لاتے تو دشمن مسلسل وار نہ کرسکتے اور حکومت نے آج پھر ملزمان کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا تو آئندہ سخت لائحہ عمل طے کرینگے حکومت ہمارے کارکنوں کا امتحان نہ لیے انہوں نے کہا کہ دشمنوں کے مذموم عزائم کو بے نقاب کرنے اورقیام امن کے لئے آگے بڑھے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے تک امن ممکن نہیں امن وامان کے قیام کیلیے حکومت تمام وسائل کو بروئے کارلایا جائے انہوں نے کہا کہ دشمن قوتوں کے آلہ کار بدامنی اور دہشت گردی کی آگ نے ہمیں ایک صدی پیچھے دھکیل دیاصوبائی حکومت دہشت گردی میں کمی کا کریڈٹ تو لیے رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری کی دعوے تو کررہے ہیں لیکن دہشت گردی کے تسلسل سے اضطراب اور بے چینی کی کیفیت سے دوچار ہیں انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت شہداء اور زخمیوں کو جلد ازجلد معاوضہ دیا جائے اور زخمیوں کو بہتر علاج معالجہ دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں