ڈیرہ بگٹی,قدرتی گیس سے مالا مال شہر کے عوام لکڑی جلانے پر مجبور
ڈیرہ بگٹی: جس علاقے کے گیس سے پورے ملک کے چولھے جلتے ہیں وہاں کے مکین آج بھی لکڑیاں جلانے ہر مجبور ہیں ڈیرہ بگٹی 4 گیس فیلڈ کا مالک ہونے کے باوجود علاقہ مکین اپنی ہی زمین سے نکلنے والی گیس سے محروم ہیں 4گیس فیلڈ کے مالک ضلع ڈیرہ بگٹی کے لوگ گیس جیسی قدرتی نعمت سے محروم ہیں اور اس دور جدید میں بھی لکڑیاں چن کر جلانے پر مجبور ہیں بلوچستان کا ضلع ڈیرہ بگٹی گیس سے مالا مال انتہائی پسماندہ ہیں شہریوں کا کہنا ہے میلوں دور لکڑیاں کاٹ کر لاتے ہیں اس سے گھر کا چولہا جلتا ہے اور شدید سردی میں خود گرم رکھنے پر مجبور ہیں شدید سردی میں بھی علاقے کے مرد و خواتین اور بچے سردی سے بچاؤ اور گھروں کے چولھوں اور لکڑیوں کے حصول کے لیے سرکردہ دیکھائی دیتے ہیں تو دوسری جانب مہنگائی کی وجہ لکڑیاں خریدنا بھی غریب کی پہنچ سے دور ہے ڈیرہ بگٹی کے لوگ اپنے ہی سر زمین سے نکلنے والی گیس سے محروم ہیں شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بلوچستان نوٹس لے کرمقامی آبادی کو گیس کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ ڈیرہ بگٹی کے لوگوں کے گیس کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہوسکے واضع رہے کہ سردی کے اس موسم جہاں ایک طرف لوگوں کو سردی سے بچاؤ کے لیے گرم کمروں کے لیے گیس کی آشد ضرورت ہے وہاں سوئی سدرن گیس کی جانب سے نہ صرف گیس پریشرکم ہوجاتی بلکہ کوئٹہ سمیت صوبے کے ان اضلاع جہاں سردی زیادہ وہاں باقاعدہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ شروع کردی گئی ہے جس کے باعث کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں شہریوں کی اکثر متبادل کے طور پر لکڑی اور کوئلہ کے استعمال پر مجبور ہوچکے ہیں


