اسٹیٹ بینک کیجانب سے ہمسائیہ ممالک کیساتھ تجارت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی،فدا حسین دشتی
اسلام آباد/کوئٹہ:ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کے صدر فدا حسین دشتی نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بنک آف پا کستان افغانستان کے ساتھ بنکنگ نظام کی فعالی تک نقد رقوم کے ذریعے تجا رت کی اجازت دیں ورنہ نا صرف افغانستان کے ساتھ تجا رت سے وابستہ بزنس کمیونٹی کے دیوالیہ ہونے کے خدشات ہیں بلکہ بہت زیا دہ لو گ بے روزگار بھی ہوجا ئیں گے۔ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے گزشتہ روزاسلام آ با د میں پا کستان بھر کے چیمبر آف کا مرس اینڈ انڈسٹریز کے صدور کے اجلاس کے موقع پر اظہار خیا ل کر تے ہو ئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک،صو بے اور خطے کی معاشی ترقی ہمسائیہ اور دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ تجا رتی تعلقات کے استحکام میں مضمر ہوا کر تی ہے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ بلو چستان کی بھی روز اول سے ہی قانونی تجا رت کا فروغ اولین ترجیح رہی ہے ہم چا ہتے ہیں کہ ہمسائیہ ممالک ایران اور افغانستان کے ساتھ کا روبا ری روابط کو مزید بہتر کیا جا ئے لیکن اسٹیٹ بنک کی جا نب سے ہمسائیہ مما لک خاص کر افغانستان کے ساتھ تجا رت کے لئے رکھے گئے شرائط دوطرفہ تجا رت کی را ہ میں رکاوٹ بن رہی ہے ہم چا ہتے ہیں کہ جب تک افغانستان کے ساتھ بنکنگ چینل فعال نہیں ہو تا اس وقت تک اسٹیٹ بنک افغانستان کے ساتھ تجارت کی نقد رقوم میں اجا زت دیں ایسا نہیں کیا گیا تو بلو چستان میں مزید لو گ بے روزگا ر ہوں گے بلکہ افغانستان کے ساتھ تجا رت کر نے والے سرما یہ کا ر بھی دیوالیہ ہو جا ئیں گے اس لئے ہمارا اسٹیٹ بنک آف پا کستان سے اپیل ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تجا رت کی نقد کیش میں اجا زت دے تا کہ دوطرفہ تجا رت کو مزید ترقی دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلو چستان جیسے پسماندہ صو بے میں جہاں پہلے ہی بے روزگا ری عفریت کی شکل اختیار کر چکی ہے میں اسٹیٹ بنک کی حالیہ پا لیسی مزید معاشی بدحا لی کا سامان کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بنک آ ف پا کستان کو چا ہئے کہ وہ زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر اور تمام اسٹیک ہولڈر ز کو اعتما د میں لیکر پا لیسیاں بنا ئے تا کہ لوگوں کا بزنس اورروزگا ر متاثر نہ ہو ں۔


