برطانیہ میں مہنگائی تیس برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

لندن :برطانیہ میں رواں سال مہنگائی کی شرح تین دہائیوں میں بلند ترین سطح پر ہے، دسمبر میں مہنگائی کی شرح 5.4 پر تھی لیکن تنخواہوں میں کمی، کھانے پینے کی چیزوں اور بجلی کی قیمتقں میں اضافے کے بعد مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کو خوراک تک رسائی میں مشکلات کا سامنا پیش آسکتا ہے۔ برطانیہ میں واقع ایک فوڈ بینک نے گزشتہ برس 165 ٹن کھانا لوگوں میں بانٹا تھا جو کہ تقریباً 17 ہزار افراد کے لیے تھا، تاہم فوڈ بینک کے منیجر کا کہنا ہے کہ 2022 میں ممکنہ طور پر لوگوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔منیجر کا کہنا تھا کہ ہمیں لگتا ہے کہ 20 ہزار افراد کو کھانا کھلانا ہوگا، اور اگر مہنگائی زیادہ بڑھی تو یہ تعداد 25 ہزار تک پہنچ سکتی ہے، یہ واقعی ایک برا خواب ہے، بْری سے بْری صورتحال میں شاید لوگوں کی تعداد 30 ہزار ہو جائے۔واضح رہے کہ ٹرسل ٹرسٹ کی جانب سے چلنے والے اس فوڈ بینک کے لیے رقم عوام کی جانب سے خیرات کی جاتی ہے، یہ رقم مقامی سپر مارکیٹوں میں مختلف مقامات پر اکھٹی کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ اقتصادی صورتحال نے ایسے کئی افراد کو امداد طلب کرنے پر مجبور کر دیا ہے جو لوگ کھانے کے پارسل نہیں لیتے تھے۔برطانیوی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر چیز کی قیمتیوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے بہت سء مشکلات کا سامنا ہے اس لیے وہ امداد لینے پر مجبور ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں