روس یوکرائن تنازع کے حل کیلئے اعلیٰ سطح پر سفارتکاری شروع‘بورس جانسن بھی کیف پہنچ گئے
کیف :روس اور یوکرائن کا تنازع حل کرنے کے لئے اعلیٰ سطح پر سفارتکاری شروع ہو گئی ہے جس کے پہلے مرحلہ میں برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن بھی یوکرائن پہنچ گئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ روس کا یوکرائن پر حملہ تباہی کا باعث‘حملہ کی صورت میں یوکرائنی فوج جوابی کارروائی کرے گی دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے روسی ہم منصب سے فونک رابط کیا ہے جس دوران انہوں نے‘روس سے کشیدگی میں فوری کمی اور یوکرائن کی سرحدوں سے فوج اور ساز و سامان کے انخلا پر زور دیا جبکہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ روس اپنے مطالبات پر اصرار جاری رکھے گا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف سے فون پر رابطہ کیا۔ انٹونی بلنکن نے روس سے کشیدگی میں فوری کمی اور یوکرائن کی سرحدوں سے فوج اور ساز و سامان کے انخلا پر زور دیا۔ بلنکن نے باہمی سلامتی کے خدشات پر تبادلہ خیال جاری رکھنے کیلئے امریکی آمادگی کا بتایا۔روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ روس اپنے مطالبات پر اصرار جاری رکھے گا۔ روسی مطالبات میں مغرب کا اپنی سیکیورٹی ذمہ داریوں پر قائم رہنا بھی شامل ہے۔ روسی وزیرخارجہ نے کہا کہ انٹونی بلنکن نے اتفاق کیا ہے کہ مزید بات چیت ہونی چاہیے۔برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن یوکرائن پہنچ گئے۔ یوکرائنی صدر ولادیمر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا روس نے یوکرائن پر حملہ کیا تو یہ تباہی کا باعث بنے گا۔ روسی حملہ کی صورت میں یوکرائنی فوج جوابی کارروائی کرے گی امید ہے کہ روسی صدر فوج کو بارڈر سے پیچھے ہٹا لیں گے۔ادھر روسی صدر پیوٹن نے ہنگری کے وزیراعظم وکٹراوربان کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ امریکا، یوکرائن کو روس کے خلاف بطورآلہ کار استعمال کر رہا ہے۔ لگتا ہے امریکہ یوکرائن کی سلامتی کے بارے زیادہ فکر مند نہیں تصورکریں کریمیا کو واپس لینے کیلئے فوجی آپریشن شروع ہوجائے تو کیا ہوگا یوکرائن کو نیٹو کا ممبر بنانے کے نتائج سے سب کو آگاہ کر دیا ہے۔ یوکرائن پر حملے کی منصوبہ بندی کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ ماسکو کو تین اہم مطالبات پر کوئی مناسب جواب نہیں ملا۔


