اجتماعی سزا کے طور پر تشدد و جبری گمشدگیوں میں تسلسل کے ساتھ اضافہ تشویشناک عمل ہے، بی ایس او

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی و سماجی کارکنوں سمیت ہر فرد و خاندان روزانہ کی بنیاد پر جبر و تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں و بلوچ طلباء تنظیموں سے جڑے کارکنان و قیادت کے خاندان و اقارب کو اجتماعی سزا کے طور پر تشدد و جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنایا جانا تشویشناک امر ہے۔
بی ایس او کے ترجمان نے کہا کہ سات فروری بروز پیر کو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی سیکریٹری جنرل عظیم بلوچ کے بھائی و بلوچی زبان کے فنکار نذیر رحمت عرف عزیز کو تربت آپسر سے جبری طور پر اغوا کیا گیا ہے۔ عزیز بلوچ اپنے دیگر رشتہ داروں و محلے کے افراد کے ہمراہ ایک میت کی تدفین کے بعد واپس جارہے تھے کہ سول ڈریس میں دو سادہ کرولا گاڑیوں میں نقاب پوش افراد اسے وہاں سے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ اغوا کے وقت وہاں موجود دیگر افراد کی اغوا کاروں کے خلاف رکاوٹ بننے پر اغوا کاروں نے رد عمل میں کھلی فائرنگ کرکے لوگوں کو منتشر کرکے اُسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اس سے پہلے تنظیم کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری بالاچ قادر و دیگر ممبران سمیت سینئر قیادت کے خاندانوں کو مختلف ہتھکنڈوں کے زریعے حراساں کیا گیا ہے، جس کے خلاف تنظیم پہلے بھی میڈیا کی توسط سے عوام کو آگاہ کرچکی ہے لیکن اس سلسلے میں مزید اضافہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
انھوں نے کہا تنظیم نے ہمیشہ پر امن سیاسی جدوجہد و معاشرے میں مثبت سوچ کو پروان چڑھانے کی حوصلہ افزائی کی ہے لیکن اس کے باوجود تنظیمی عہدیداروں و ممبران کے خاندانوں کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انھوں مزید کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں کا مقصد سیاسی کارکنوں کے خاندان و طلباء کو سیاست سے بددل کرنا ہے تاکہ ہر طرح کے مظالم کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والا کوئی نہ ہو لیکن ہم ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ اس طرح کے ہربوں سے کسی صورت مرعوب نہیں ہوں گے بلکہ بلوچ قوم پر ہونے والے ہر طرح کی مظالم و ناانصافیوں کی نفی کریں گے۔
ترجمان نے آخر میں حکام سے نذیر رحمت کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پر امن سیاسی جہد کاروں کے رشتہ داروں کی اس طرح جبری گمشدگی معاشرے میں بہت سے منفی اثرات مرتب کرنے کا باعث بنتے ہیں جو کہ کسی بھی معاشرے کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔ انھوں نے کہا اگر نذیر کی بازیابی میں مزید تاخیر ہوئ تو اس کے خاندان کے ساتھ ملکر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں