کراچی،چوری شدہ 35 نئی گاڑیوں کے بلوچستان آئل فیلڈز میں استعمال کا انکشاف
کراچی :شہر کے مختلف علاقوں سے چھینی یا چوری شدہ 35 نئی گاڑیوں کے بلوچستان آئل فیلڈز میں استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جنوری 2017ء تا اکتوبر2021 کے دوران شہر سے کم از کم 35 نئی گاڑیاں چھینی یا چوری کی گئی تھیں۔ ان گاڑیوں کو کراچی سے بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی لے جایا گیا، جہاں ان کے جعلی کاغذات اور رجسٹریشن نمبرز بنائے گئے۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ چھینی یا چوری کی گئی بعض نئی گاڑیوں کو پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کو کرائے پر دیا گیا ہے ذرائع کے مطابق دوران تفتیش اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل کے ہاتھوں گرفتار لفٹر کے انکشاف کے بعد محکمہ داخلہ سندھ نے پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل کو خط لکھ دیا۔پولیس کے مطابق کمشنر اسلام آباد نے بھی پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل ہیڈ کوارٹرز کو خط لکھا ہے، تاحال ان خطوط کے جوابات نہیں آئے ہیں حکام کے مطابق ان 35 گاڑیوں میں سے 5 پولیس نے اپنے طور پر بلوچستان سے برآمد کی جبکہ دیگر چھینی گئی 30 گاڑیاں کہاں ہیں تاحال گیان کا کچھ پتا نہ چل سکا۔ پولیس کے مطابق چھینی یا چوری کی گئی ہر گاڑی کی قیمت ایک اندازے کے مطابق کم از کم 40 لاکھ روپے سے زائد ہے


