ٓٓٓٓٓٓٓٓٓعوام کا بنیادی مسئلہ مہنگائی،کون حل کرے گا؟

اپوزیشن سمیت ہر ذی ہوش شہری کا خیال ہے کہ حکومت اپنے اقتدار کے ساڑھے تین برسوں میں مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہی۔دوسری جانب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بھی تسلیم کرتے ہیں حکومت مہنگائی کے حوالے سے اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکی۔اپوزیشن 2018سے یہ سمجھ رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ناجائزاور نااہل ہے۔بلکہ طویل عرصے تک اپوزیشن یہ بھی کہتی رہی ہے کہ یہ حکومت اپنے بوجھ سے خود ہی زمین بوس ہو جائے گی۔20ستمبر2020کو ”پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ“(پی ڈی ایم) نامی اپوزیشن کا متحدہ پلیٹ فارم بھی وجود میں آگیا۔دانشوروں کے ایک حلقے نے اس اقدام کو ملکی سیاست میں اسے اہم پیشرفت قرار دیا۔اس نوساختہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں میں سے کسی نے نہیں سنبھالی، یہ منصب جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو ملا۔واضح رہے جے یو آئی کو قومی اسمبلی میں کبھی اکثریت نہیں ملی۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ اتحاد کوئی بڑی سیاسی کامیابی حاصل کئے بغیر ہی12مارچ2021کو پی پی پی کی قیادت کو شوکاز جاری ہونے پرٹوٹ گیا۔ جوڑنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود تاحال پرانی صورت حال بحال نہیں ہوئی۔چندروز قبل نون لیگ کے ظہرانے میں دی گئی پی پی پی کی تجاویز پی ڈی ایم کے سامنے رکھی جائیں گی،والی کیفیت ہے۔اپوزیشن اپنے جذبات کی تسکین کے لئے جو چاہے حکومت کے بارے میں کہتی رہے،لیکن ان زہریلے اور توہین آمیز القاب کا اسے کوئی فائدہ نہیں ملا۔اپوزیشن مانے یا نہ مانے گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران اقتدار اسی کے پاس تھا،اس کی کارکردگی سے عوام واقف ہیں۔ابھی تک کا تخمینہ لگایا جائے توپی ٹی آئی کی کارکردگی کو ”اچھا“ نہ کہیں تب بھی اسے آسانی سے ”برا“ نہیں کہا جاسکتا۔ودون قبل گریڈ ایک سے 19تک کے وفاقی ملازمین کی تنخواہوں کا اضافہ سرکاری ملازمین کے لئے اچھا اقدام ہی سمجھا جائے گا۔اپوزیشن کوجلد یا بدیر علم ہوجائے گا کہ اب اقتدار کی جنگ میں دو پارٹیاں نہیں،تیسر ی پارٹی میں موجود ہے۔عوام کے پاس دو میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے والی مجبوری نہیں رہی، تیسرا انتخاب بھی کر سکتے ہیں۔ یہ درست ہے کنٹونمنٹ کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار نہیں جیتے لیکن یاد رہے بلدیاتی تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں۔قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں ووٹرز کی نفسیات خاصی مختلف ہوا کرتی ہے۔ پی ٹی آئی کی نااہل حکومت کو اپنے بوجھ سے زمین بوس ہونا ہوتا توساڑھے تین برسوں میں ہوچکی ہوتی،اب وزیر اعظم گھریلو خواتین کو تنخواہوں میں 15فیصد اضافے کی نوید سنانے لگے ہیں۔یہ درست ہے ہمارے معاشی ماہرین کی نگاہوں میں پی ٹی آئی کی معاشی پالیسی پاکستان کی مشکلات میں تا حال آئیڈیل تبدیلی نہیں لا سکی، لیکن یہ کہنابھی غلط نہیں کہ پی ٹی آئی کے ساڑھے تین برسوں مزید خراب ہو گئی ہے۔عوام نے پی ڈی ایم کی کال کے جواب میں خاموشی اختیار کی،مہنگائی کا تکلیف دہ اضافہ برداشت کیا مگر سڑکوں پر نہیں آئے۔اب تک متعدد منصوبوں کا صرف اعلان نہیں کی گیا بلکہ اربوں روپے کے بلا سود قرضے نوجوانوں کو مل چکے ہیں۔زیتون اور بیری کے درختوں سے شہد کی پیداواربھی شروع ہوچکی ہے، سعود عرب کے سفیر نے تمام شہد خریدنے کی پیشکش بھی کر دی ہے۔ اسی طرح زیتون کے تیل کی پیداوار بھی شروع ہوگئی ہے، اس سے آنے والے دنوں میں خوردنی تیل کی درآمد کم ہو جائے گی۔بھنگ کی شجر کاری سے مختلف اجزاء حاصل کرنے کا تجربہ کامیاب ہونے کے بعد اس شعبے میں سرمایہ کاری ہو چکی ہے، اس کے ثمرات بھی ملنا شروع ہو جائیں گے۔مانسہرہ(خیبر پختونخوا میں چائے کی کاشت کو فروغ دیا جارہا ہے، سیاحت کا شعبہ ماضی میں نظر انداز کیا گیا اب اسے فروغ دے کر ملکی معیشت کا حصہ بنایا گیا ہے۔10سال میں 10ڈیم تعمیر کرنے سے ملکی معیشت کو ہمہ پہلو فائدے پہنچیں گے۔صنعت کے لئے سستی بجلی اور زراعت کے لئے درکار پانی وافر مقدار میں دستیاب ہوگا۔غذائی اجناس ملک میں پیدا ہوں گی، درآمدی بل میں کمی آئے گی جبکہ برآمدات میں اضافے کے باعث بجٹ خسارے سے نجات ملے گی۔اپوزیشن ہلڑ بازی اور شورشرابے کی مدد سے ان حقائق کے برعکس عوام کو قائل کرنے میں کیسے کامیاب ہوگی؟ اس بارے سوچنا اپوزیشن کا کام ہے، لیکن تاحال حکومت ادھر دیکھنے کو بھی تیار نہیں۔اس کے علاوہ ہر آنے والا دن اپوزیشن کے لئے مشکلات کا نیا انبار بھی اپنے ساتھ لاتا دکھائی دے رہا ہے۔قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی پر بیک وقت فرد جرم عائد ہونا ملکی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔مسلم لیگ نون کواس سے خاصا بڑا نقصان پہنچ نے کا خدشہ ہے۔اگر شریف فیملی کے دونوں بڑے اور اہم رہنما اپنی صفائی میں عدالت کے روبرو قابل اطمینان شواہد پیش نہ کر سکے تو ان دونوں کے لئے سیاسی کردار ادا کرنا ناممکن ہو جائے گا۔نون لیگ کے قائد نواز شریف بھی بیرون ملک مقیم ہیں اور ان لکے ڈاکٹر کی ارسال کردہ میڈیکل رپورٹ یارائے کے مطابق شدید نفسیاتی دباؤ میں ہیں۔ اپوزیشن اس صورت حال کا کیسے مقابلہ کرے گی؟ اس بارے میں مبصرین کچھ نہیں کہہ رہے،تذبذب کا شکار ہیں۔ دراصل مبصرین نے90کی دہائی کے بعدایسا منظر پہلے نہیں دیکھا۔وہ دونوں پارٹیوں (مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی) کومشینی انداز میں باریاں لیتے دیکھنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ انہیں خود بھی اپنی آنکھوں دیکھی پر اعتماد نہیں رہا۔وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ مقتدر حلقوں نے ملک کو کرپشن فری بنانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔کرپشن اپنے بل پر کھڑی نہیں ہوسکتی، اسے دیگر انتظامی اداروں کی بیساکھیاں درکار ہوتی ہیں۔ملک عبدالقیوم اور ملک ارشد جیسے ججز کوعدلیہ میں لایا جاتا ہے تاکہ فون پر من پسند فیصلوں کی ہدایت دی جا سکے، عمرے پر بلاکر فیصلے ڈکٹیٹ کرانا ممکن ہو سکے۔اورلندن سے حلفی بیانات نوٹرائز کرانے والے ضرورت کے وقت کام آئیں۔ اب یہ کلچر آخری سانس لے رہا ہے،لیکن مبصرین کو برسوں سے کرپشن کاراج دیکھتے ہوئے یقین ہو گیا ہے کہ سورج تو مشرق کی بجائے مغرب سے نکل سکتا ہے مگر پاکستان میں کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ کرپشن ناقابل شکست ہے۔جبکہ سب جانتے ہیں کہ نواز شریف وزیر اعظم ہاؤس سے2016میں نکلے،جیل گئے، اور پھر وہاں سے لندن چلے گئے۔ اور پھر انہوں نے ایک دن کے لئے بھی وزیر اعظم ہاؤس میں قیام نہیں کیا۔6سال جو شخص وزیر اعظم ہاؤ نہیں گیا،مبصرین مان لیں کہ آئندہ بھی وہ وزیر اعظم ہاؤس کبھی نہیں جائے گا۔لندن میں قیام بھی عارضی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں