18وئیں ترمیم پر متفقہ موقف سامنے لائیں گے،مولانا فضل الرحمن

اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام (ف)کے قائد مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں 18وئیں ترمیم پر متفقہ موقف سامنے لائیں گے حکومت ایک طرف یکجہتی کا درس دے رہی ہے، دوسری جانب این ایف سی ایوارڈ پر نیا قانون لانے کا کہا جارہا ہے منگل کے روز اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمن نے کہا پاکستان کو مسلسل تجربہ گاہ بنایا گیا ہے اٹھارویں ترمیم پارلیمنٹ سے اتفاق رائے سے پاس ہے ملک میں صدارتی نظام اور مارشل لاء ناکام ہوچکا، جس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہوچکا ہے، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے متحد ہوکر پارلیمانی طرز حکومت پر اتفاق کیا تھا1973 کا آئین بنا جس کو تمام سیاسی جماعتوں نے اور پارلیمانی اراکین نے اتفاق رائے سے پاس کر کے آئین کا بنیادی ڈھانچہ مہیا کیا تمام سیاسی جماعتیں آئین پر نظرِ ثانی اور اصلاحات کمیٹی میں شامل تھیں انہوں نے کہاآئین کے بنیادی ڈھانچے میں اگر کسی ایک شق کو ختم کیا جاتا ہے تو اس کے لئیے از سر نو آئین ساز پارلیمنٹ تشکیل دینا ہوگی اور آئین سازی کرنی ہوگی، کس ایجنڈے کے تحت اٹھارویں ترمیم میں رد وبدل کی باتیں کی جارہی ہیں ایسے فیصلوں سے سیاسی و آئینی بحران پیدا ہوگا اور یہ حالات کسی بھی آئینی بحران کے متحمل نہیں ہوسکتے۔


