کون گھبراہٹ کا شکار ہے؟

حکومت اور اپوزیشن اپنے مخالف فریق کے بارے میں عوام کو بتا رہے ہیں کہ دیکھو ان کا مخالف فریق شدید گھبراہٹ کا شکار ہے۔دونوں کو یقین ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں،سو فیصد درست ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس عدم اعتماد کے لئے درکار اراکین کی تعداد وفاق اور پنجاب میں پوری ہوچکی ہے۔مناسب وقت پر اس کا اعلان کردیا جائے گا۔اس کے جواب میں حکومت اپوزیشن سے کہہ رہی ہے کہ اگر ان کے پاس عدم اعتماد کہنے والوں کی تعداد پوری ہوچکی ہے تو، تحریک عدم اعتماد 20فیصد اراکین کے دستخطوں کے ساتھ اسپیکر کے پاس جمع کرا دیں، تین دن یا ایک ہفتے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ گیند اپوزیشن کے کورٹ میں ہے، اگر واقعی ان کے ساتھ 172یا زائداراکین کھڑے ہیں اور موجودہ حکومت کو گھر بھیجا جا سکتا ہے تو انہیں بلاتاخیر تحریک اسپیکر کے دفتر میں جمع کرا دینی چاہیئے تاکہ حکومت کو فوری اقتدار ملے اور وہ اپنی اچھی حکمت عملی پرزیادہ دنوں تک عمل کر سکیں اورعوام مہنگائی سے نجات پائیں، سکھ کاساتھ لے سکیں۔ہر پندرہ دن بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا جانے لگا ہے۔حکومت نے جو ریلیف ماضی میں دیاتھاآئی ایم ایف کے دباؤ پر واپس لی جارہا ہے۔اپوزیشن اگر اس ظالمانہ اضافے سے عوام کی گردن چھڑاسکتی ہے تو نیک کام میں دیر کیوں؟تحریک عدم اعتماد جمع کرائیں، اور اپنے حمایتی اراکین کی مدد سے با آسانی گھر بھیج دیں۔اس کام میں جتنے تاخیر ہوگی حکومت کو کام کرنے کا اتنا زیادہ کام کرنے کا وقت مل جائے گا۔اپوزیشن ان ہاؤس تبدیلی سے پرا فائدہ نہیں اٹھا سکے گی۔علاوہنازیں حکومت کو یہ کہنے کا موقع مل جائے گا:”اپوزیشن کا دعویٰ درست نہیں، اس کے پاس مطلوبہ172اراکین نہیں، اس لئے وہ تحریک عدم اعتماد اسپیکر کے دفتر میں جمع نہیں کرارہی“۔دوسرا نقصان یہ ہوگاکہ حکومت عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں ممکنہ کمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں بھی اسی تناسب سے قیمت کم کر دے گی،اور عوام کی ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کرے گی۔یادرہے کہ سیاست میں وقت بھی اہم فیکٹر ہے۔کہاجاتاہے کہ جومکامیدان جنگ کے نکلنے کے بعد یاد آئے اسے،اپنے منہ پر مارنا چاہیئے۔اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ ہر کام بروقت کر لیا جائے، بلاوجہ تاخیر نہ کی جائے۔وزیراعظم عمران خان کاسیکیورٹی خدشات کے باوجود عوامی جلسوں سے خطاب بھی معنی خیز ہے۔انہیں بھی گھبراہٹ کا سامنا ہے۔وہ تسلیم نہ کریں تب بھی ان کے بعض ایکشنز یہ بتارہے ہیں کہ انہیں پس پردہ ”کچھ“نہ کچھ ہوتا محسوس ہونے لگا ہے۔ شایدوہ پراسرار سائے حرکت کرتے دیکھ رہے ہوں۔یا انہیں پس دیوار سرگوشیاں سنائی دینے لگی ہوں۔انہیں قومی اسمبلی کے فلور پر نون لیگ کے رہنما کی وارننگ یاد آگئی ہوکہ حکومت کے سر پر چھت ہمیشہ کمزور ہوتی ہے،یہ کسی لمحے سر پر گر جاتی ہے۔چند روز ان کی زبان پر بھی یہ جملہ آگیا تھا:”اگر مجھے نکالا گیاتو میں زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا“۔سیاست سے دلچسپی رکھنے والے جانتے ہیں کہ نکالنے کا کام کہاں سے کیا جاتا رہا ہے۔اپوزیشن آج بھی دن رات اپیل کرتی سنائی کہ اس حکومت کے سر سے ہاتھ اٹھا لیا جائے۔ اس اپیل کابتکرار اپوزیشن کے لبوں پر موجود ہونابلاوجہ تو نہیں ہوسکتا۔جبکہ اپوزیشن گزشتہ تین چار دہائیوں تک برسرِ اقتدار بھی رہ چکی ہو۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی شکایت میڈیا کے ذریعے عام آدمی تک پہنچ چکی ہے کہ (2018والے)الیکشن سے پہلے انہیں کابینہ کی فائنل لسٹ دے دی گئی تھی،لیکن انتخابات کے نتائج اس کے برعکس نکلے۔ بین السطورپیغام تک سمجھدار یقینا پہنچ گئے ہوں گے۔یہ کہنے کی ہرگز ضرورت نہیں کہ اس شکایت میں یہ اعتراف بدرجہئ اتم موجود ہے کہ 2018کے انتخابات سے پہلے سیاسی پارٹی کا تعین کر لیا جاتا تھا،اورکابینہ کی فہرست بھی مجوزہ وزیر اعظم کی جیب میں ڈال دی جاتی تھی۔مذکورہ ”شکایت نما انکشاف“ حالیہ تاریخ کا واقعہ ہے، لوگوں کے ذہن میں محفوظ ہوگا۔فہرست اب بھی شہباز شریف کی جیب میں موجود ہونی چاہیئے۔ ادھوری اصلاح کے نتائج بھی ناقابل اعتماد ہوں گے۔کوشش کی جائے کہ تمام حقائق سامنے رکھے جائیں تاکہ سیاست کا قبلہ درست کرنے میں مدد مل سکے۔ علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہو سکے کہ ماضی کا مشرقی پاکستان بھوکا ننگا اور آج کے بنگلہ دیش کی معیشت پاکستان سے بہتر کیوں ہے؟ یاد رہے علیحدگی کے وقت وہاں کی آبادی مغربی پاکستان کی آبادی سے زیادہ تھی اور وہاں کی عورتوں کو طنزاًبچے پیداکرنے کی مشین کہا جاتا تھا،جبکہ آج بنگلہ دیش کی شرح ِ آبادی پاکستان سے کم ہے، اس کمی کا سبب کیا ہے؟ پاکستان کے غربت زدہ عوام کو بتایاجائے کہ ان کو غربت کی دلدل میں پھنسانے کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے؟ اس لئے کہ قومی اسمبلی کے قائد حزبِ اختلاف انتخابات سے قبل اپنی جیب میں منظورشدہ کابینہ کی فہرست لئے پھرتے تھے۔ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ منظوری کہاں سے حاصل کی تھی؟مذکورہ سوالات کا جواب نہ دیا گیا تو یاد رہے،تاریخ اپنی فیصلہ سنانے میں کسی سے اجازت اور منظوری لینے کی محتاج نہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ تاریخ ہرقوم سے حساب ضرور لیتی ہے۔غلطیوں کو معاف نہیں کرتی۔معاشی تباہی خود بخود نہیں آئی۔بے اصولی، من مانی اور انا پسندی جیسے جذبات ہر تباہی کی تہہ میں موجود ہوتے ہیں۔موجودہ حکومت کو اپنی سیاسی اور معاشی سمت کا از سرِ
نو جائزہ لینا چاہیے،ایسا نہ ہوکہ کل انہیں معلوم ہو، وہ بھی افراط و تفریط کا شکار ہوگئے تھے۔میانہ روی سے دور رہنے کے منفی نتائج غالب آگئے۔جس مقام کووہ پانی کاسرچشمہ سمجھ کرتیزی سے اس کی جانب لپکے جارہے ہیں، قریب پہنچ کر پتہ چلے کہ وہ تو سراب تھا، ساری محنت رائیگاں جانے پر افسوس ہو۔خطہ بھی ایک نئی کروٹ لے رہا ہے۔سی پیک جیسا منصوبہ پہلے کبھی نہیں بنا۔اس حقیقت کا انکار بھی ممکن نہیں کہ یہ سب کچھ جدید ٹیکنالوجی کاسحر ہو۔ پاکستان کے کرتادھرتا کو سوچنا چاہیے کہ سیاست اور معیشت کا قبلہ کیسے درست ہوگا؟ اس لئے کہ ماضی کی (انتخابات سے قبل کابینہ کی منظور شدہ فہرست مجوزہ وزیر اعظم کی جیب میں ڈالنے والی) حکمت عملی بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ عوام اپنی نسوں کاخون نچوڑ کرمدت ہوئی دے چکے، آج آئی ایم ایف عوام کی ہڈیوں کا گودا مانگ رہا ہے،پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کرنے سے یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ خاموشی سے ہر فرمائش ماننا عوامی مفاد میں نہیں۔اصلاح کی جائے، عوام کی جان نہ نکالی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں