محسن بیگ کی گرفتاری،ڈائریکٹرایف آئی اےسائبرکرائم کو شوکازنوٹس
اسلام آباد :اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی محسن بیگ کے گھر چھاپے کے خلاف درخواست میں ڈائریکٹرایف آئی اے سائبرکرائم کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ محسن بیگ کی گرفتاری ایف آئی اے کی جانب سے طاقت کےغلط استعمال کی مثال ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی محسن بیگ کے گھر چھاپے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سائبر کرائم عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کو ہم نے کیا واضح ہدایات دی تھیں اور آپ نے اس عدالت کو کیا یقین دہانی کرائی تھی؟ ہم آپ کے خلاف کارروائی کریں گے کیوں کہ آپ کا کام عوام کی خدمات ہے اور کسی کی پرائیویٹ ریپوٹیشن کی حفاظت نہیں، ہر کیس میں آپ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کررہے ہیں۔عدالت نے مزید استفسارکیا کہ آپ کو شکایت کہاں پر ملی تھی؟۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ ہمیں شکایت لاہور میں موصول ہوئی تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور میں کیوں شکایت درج کروائی گئی جب شکایت کرنے والے اور ملزم بھی اسلام آباد میں تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ منسٹرصاحب نے شکایت ہی لاہور درج کرائی تھی۔عدالت نے اس پر کہا کہ آپ کا قانون کہتا ہے کہ پہلے انکوائری کرنی ہے،کیا آپ نے انکوائری کی اور آپ نے وزیر کی شکایت پر سب ضابطے چھوڑ دیئے۔ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالتی حکم پر اس کیس کی ایف آئی آر پڑھی۔ اس کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ شکایت کنندہ خود کہہ رہا ہے کہ یہ ٹی وی شو میں ہوا تاہم ٹی وی شو پر پیکا ( قانون ) کیسے لاگو ہوگیا؟۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ یہی کلپ فیس بک اور سوشل میڈیا پر شئیر کیا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ کیا یہ کلپ سوشل میڈیا پر محسن بیگ نے شئیر کیا تھا کہ آپ گرفتار کرنے گئے؟ ٹی وی شو میں کیا بات صرف ایک شخص نے کی اور کتنے لوگ تھے اورصرف ایک کو کیوں گرفتار کرنے گئے؟۔اس پرڈائریکٹرایف آئی اے نےعدالت کوبتاییا کہ محسن بیگ نے ٹی وی شو میں ریحام کی کتاب کا حوالہ دے کر گفتگو کی تھی اور کتاب کا حوالہ دینا توہین آمیز تھا۔چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی ریمارکس دئیے کہ ایف آئی اے نے اس عدالت کے ساتھ فراڈ کیا ہے، ہم لوگ یہاں عوام کی خدمت کیلئے بیٹھے ہیں، ایف آئی اے کا کام مجھ سمیت کسی کی ذاتی ریپیوٹیشن کی حفاظت کرنا نہیں ہے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ پیکا کی سیکشن 21 ڈی کے تحت کارروائی کی گئی۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کو ایس اوپیز ہم نے سیکشن 20 سے متعلق دیئے تھے،آپ سیکشن 21 ڈی پڑھیں اور خود کو مزید شرمندہ کریں گے۔ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ سیکشن 21 ڈی جنسی طور پر ایکسپوز کرنے سے متعلق ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اس کیس میں یہ سیکشن لگا کر آپ نے شکایت کنندہ کو بھی شرمندہ کیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ میرے خیال میں یہ سیکشن اس کیس میں نہیں بنتا۔
عدالت نے ڈائریکٹرسائبرکرائم ایف آئی اے کو شوکاز نوٹس جاری کردیا اور ریمارکس دئیے کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے بتائیں کہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ ہو۔ عدالر نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کردی اور کہا کہ اگر مطمئن کر پائے کہ توہین عدالت نہیں کی توعدالت انھیں چھوڑ دے گی۔اسلام ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو بھی طلب کرلیا اور استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل بتائیں کہ سیکشن 21ڈی کوختم ہی کیوں نہ کر دیا جائے؟۔عدالت نے پیکا کے تحت کارروائی کی حد تک سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔


