پاکستان پرنٹنگ کارپوریشن کا 1969سے ابتک خسارے میں چلنے کا انکشاف
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان پرنٹنگ کارپوریشن کے حکام نے بتایا کہ کارپوریشن 1969میں قائم ہوئی جو آج تک منافع میں نہیں جا سکی،ماضی میں مختلف اداروں سے پرنٹنگ کے آرڈر وصول کئے، رقم وصول کرنے کے باوجود ابھی تک کام مکمل نہیں ہوسکا،لاہور اور پشاور کی مشینری اور زمین فروخت کر کے خسارہ کم کرنے کی کوشش کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر کمیٹی محسن داوڑ کی زیرصدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں رکن کمیٹی رانا ارادت شریف، عظمیٰ ریاض، اسلم خان کے علاوہ پاکستان پرنٹنگ کارپوریشن کے حکام، وزارت قانون کے افسران نے بھی شرکت کی۔کمیٹی اجلاس کو بتایا گیا کہ کارپوریشن کے 10معطل ملازمین کو ان کی نوکریوں پر بحال کر دیا گیا ہے اور انہیں سابقہ مراعات فراہم کی جائیں گی جس پر کنوینئر کمیٹی محسن داوڑ نے کہا کہ ان ملازمین کے معطل ہونے کے دوران روکی گئی تنخواہوں، رہائش گاہوں اور ترقی کو بھی خیال میں رکھا جائے، جس پر ایم ڈی پاکستان پرنٹنگ کارپوریشن نے کمیٹی کو بتایا کہ ملازمین کیلئے جو بھی حکومتی مراعات، طریقہ کار و ضوابط ہیں ان پر عمل کیا جائے گا۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کارپوریشن حکام نے بتایا کہ کارپوریشن میں اس وقت 400ملازمین کام کر رہے ہیں،اس وقت پاکستان الیکشن کمیشن کی جانب سے دیئے گئے پرنٹنگ کا کام جاری ہے،جن میں صوبہ خیبرپختونخوا اور صوبہ پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کی تیاریوں کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کو درکار اشاعتی مواد تیار کیا جا رہا ہے،اگر حکومت کے دوسرے ادارے بھی اپنی پرنٹنگ کا کام کارپوریشن کے حوالے کریں تو ہم خسارے سے نکل سکتے ہیں،اس وقت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی جانب سے ان کی اسٹیشنری اور دیگر اشاعتی مواد کروڑوں روپے میں بنتا ہے جو وہ دیگر ذرائع سے پرنٹنگ کروا رہے ہیں، اگر صرف علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور فیڈرل بورڈ اپنا کام کارپوریشن سے کروائے تو ہم کافی حد تک اپنے معاملات کو بہتر طریقے سے چلا سکتے ہیں۔ کنوینئر کمیٹی محسن داوڑ نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ نجی پرنٹنگ پریس کو مالی طور پر مضبوط اور منافع کما رہے ہیں جبکہ کارپوریشن دن بدن خسارے کا شکار ہے، اگر الیکشن کمیشن اپنا کام پرنٹنگ پریس کو نہ دے تو یہ چارسو افراد کی تنخواہیں قومی خزانے سے ہی وصول کی جائیں گی، جس پر حکام نے جواب دیا کہ نجی پرنٹنگ پریس مالکان کے پاس ملازمین کی تعداد 15 سے 20 افراد پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ کارپوریشن کے پاس 400سرکاری ملازمین ہیں،اس کے علاوہ ریٹائر ملازمین کی پنشن بھی ہے جس کی وجہ سے کارپوریشن پر بہت زیادہ مالی بوجھ ہے۔ رکن کمیٹی رانا ارادت شریف نے کہا کہ حکام نے سابقہ اجلاسوں میں بتایا تھا کہ وزارت خزانہ انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ پرنٹنگ کا کام مارکیٹ ریٹ سے دس فیصد زیادہ پر وصول کرے،ایسے میں کون شخص ہو گا جو مارکیٹ ریٹ کی بجائے دس فیصد زیادہ دے کر کارپوریشن سے کام کروائے گا۔ رکن کمیٹی محمد اسلم خان نے کہا کہ کارپوریشن صرف منافع والے پرنٹنگ کا کام ہی وصول نہ کرے بلکہ کم مارجن والے کام بھی پکڑے، جس سے کم از کم ملازمین کی تنخواہوں کا خرچ تو نکلے، آخر حکومت کب تک مالی بوجھ برداشت کرتی رہے گی۔ اراکین کمیٹی کے سوال کے جواب میں پرنٹنگ کارپوریشن کے حکام نے بتایا کہ وزیراعظم معائنہ کمیشن حکام نے گزشتہ ماہ کارپوریشن کی ملکیت کا تخمینہ لگایا تھااب ہمارا ارادہ ہے کہ پشاور اور لاہور میں کارپوریشن کی زمین اور مشینری کو فروخت کر کے مالی خسارے پر قابو پایا جائے، اس کے علاوہ اسلام آباد کی فالتو پرنٹنگ مشین کو کراچی میں منتقل کیا جائے۔ رکن کمیٹی رانا ارادت شریف نے کہا کہ کراچی میں کارپوریشن کی مشینری تو بینک آف پاکستان کے پاس ہے جہاں پر وہ کرنسی نوٹ چھاپتے ہیں وہ آپ کے حوالے کیسے کریں گے۔ حکام نے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں پر دو پرنٹنگ پریس کام کر رہے ہیں ایک پر کرنسی نوٹ چھاپے جارہے ہیں جبکہ دوسرے پر پاسپورٹ اور اس قسم کے دیگر حکومتی آرڈر یا اشٹام پیپر بنائے جا رہے ہیں۔ حکام نے کمیٹی سے کہا کہ اگر قومی اسمبلی اور دیگر نیم سرکاری ادارے پرنٹنگ پریس کو اشاعتی کام دیں تو اس کے بہتر فوائد مل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی مشینری خریدنے کیلئے اشتہارات دے دیئے گئے ہیں، اسلام آباد سے اچھی حالت کی مشینری لاہور میں بھی منتقل کی جائے گی۔ کمیٹی رکن رانا ارادت شریف نے کہا کہ کمیشن اپنی آمدنی کے ذرائع بڑھانے، جس پر حکام نے کہا کہ ہم نجی سیکٹر سے مقابلہ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں لیکن مالی وسائل آڑے آرہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کارپوریشن حکام نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے دیئے گئے کام کے علاوہ بھی ڈیڑھ کروڑ کا کام کررہے ہیں، ہم پہلے سے دیئے گئے جن کاموں کی ایڈوانس رقم وصول کر چکے ہیں ان کو نمٹا رہے ہیں کیونکہ لی گئی ایڈوانس رقم خرچ ہو چکی ہے لیکن مالی وسائل نہیں ہیں،کوشش ہے کہ پرائیویٹ سیکٹرسے بھی کام لائیں اور ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکیں۔(اح+م ع)


