متفقہ لائحہ عمل کے بغیرحکومت گھر نہیں جائے گی
اداریہ
27فروری تیزی سے قریب آرہا ہے مگر اپوزیشن ابھی مذاکرات میں مصروف ہے۔حکومت مخالف تحریک سے پہلے جس سیاسی ہلچل کی ضرورت ہے وہ دور دور دکھائی نہیں دیتی، حالانکہ حکومت کی جانب سے ان دنوں پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ اپوزیشن کیش کر سکتی تھی۔مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے کچھ دن قبل وزیر اعظم کو مشورہ دیا تھا کہ عوام کے سامنے جائیں تو ہیلمٹ پہن کر جائیں۔ بے قابو مہنگائی کی وجہ سے عوام شدید غصے میں ہیں اور ان کا استقبال انڈوں اور ٹماٹروں سے کریں گے۔ملک کی بڑی پارٹی کی نائب صدر ہیں، ان کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہونا چاہیئے، عوامی موڈ سے واقفیت سیاست دان کے فرائض میں شامل ہے۔اندازوں میں 19،20کا فرق ہو سکتا ہے، مگر منڈی بہاء الدین کے جلسے میں جو کچھ دیکھا گیا اسے اندازوں کی بڑی غلطی کہہ سکتے ہیں۔ ان کا دوسرا اندازہ تھا کہ عوام کی بھاری اکثریت نون لیگ کے تاحیات قائد کی طرز سیاست کو پسند کرتی ہے لیکن خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں یہ اندازہ بھی حقیقت سے بہت دور نکلا۔ اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ لیگی حکمت عملی کو عوام میں کسی وجہ سے پذیرائی نہیں ملی، لیگی قیادت کواس کی وجہ اور حل تلاش کرناہوگاتاکہ اس دوری کو کم کیا جا سکے۔نون لیگ کے علاوہ پی پی پی نے 27فروری کواسلام آباد پہنچنے کے شیڈول کا اعلان کررکھا ہے۔لیکن اس اعلان پر عملدرآمد کے لئے جس توانا لب و لہجے کی ضرورت ہے وہ موجود نہیں۔ممکن ہے پی پی پی کی اعلیٰ قیادت نے ملک میں بد امنی کی حالیہ لہر دیکھنے کے بعد اس فیصلے میں کوئی تبدیلی کیر لی ہو مگر بوجوہ اس کا باضابطہ اعلان کرنا مناسب نہیں سمجھااور ان ہاؤس تبدیلی کے لئے تمام پارٹیوں کی قیادت سے ملاقات کا سلسلہ شروع کردیا جو عام آدمی کو دکھائی دے رہا ہے۔ یہی طریقہ کار ایم کیوایم اور نون لیگ نے بھی اپنا رکھا ہے۔سیاست سے دلچسپی رکھنے والے جانتے ہیں کہ سیاست ایک پیچیدہ عمل کا نام ہے اور مستقل مزاجی سے اسے جاری رکھنا ہوتاہے۔میدان سے غیر حاضر ہونے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔اس لئے پارلیمانی نظام میں ہر سیاسی پارٹی کی مجبوری ہے کہ خود کو متحرک رکھے، عوام کو درپیش مسائل کے حوالے سے آواز اٹھائے،حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنائے اور وسط مدتی انتخابات کے لئے ماحول بنانے کی کوشش کرتی رہے۔لیکن عوام ساڑھے تین سال کے دوران مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود پی ٹی آئی کی حکومت سے اس حد تک ناراض نہیں ہوئے کہ اسے گھر بھیجنے کے لئے سڑکوں پر آئیں۔ اپوزیشن تجربہ کار ہے، طویل عرصہ اقتدار میں رہ چکی ہے،اس بنیادی وجہ سے واقف ہے جو عوام کے گھروں میں رہنے کا اصل سبب ہے۔اس کے پاس ایک سوال کا جواب نہیں کہ 2018 میں جب اس نے اقتدار چھوڑا تو ملک دیوالیہ ہونے کے اتنا قریب کیوں تھا؟پی ٹی آئی اسی سوال کو عوام کے سامنے پیش کرتی ہے اورعوام نہ چاہتے ہوئے بھی گھروں سے نہیں نکل رہے۔پانامہ لیکس بھی اپوزیشن میں شامل دونوں بڑی پارٹیوں کے لئے رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔اب سوئس سیکریٹس بھی نئی مشکل بن جائیں گے۔یہ وہی روایتی کمبل ہے جسے دونوں پارٹیاں خود سے علیحدہ کرنا چاہیں تب بھی نہیں کرسکیں گی۔ سوئس بینک اکاؤنٹس ساری کہانی بیان کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل(ر) اختر عبد الرحمٰن اس دنیا میں نہیں ہیں مگر ان کے بیٹے قانون کو جواب دہ ہیں کہ انہوں نے 20سال یا اس سے بھی کم عمر میں سوئس بینک میں اتنی بڑی رقم کیسے جمع کرائی تھی؟واضح رہے وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔زمین سورج کے گرد مخصوص مدار پر گردش کرتی ہے،اس دوران کبھی دن بڑے اور کبھی راتیں بڑی ہوتی ہیں۔بزرگوں نے اس مثال کے ذریعے یہ سمجھایا ہے کہ جب اقتدار ملے تو یاد رکھو کہ یہ عارضی ہے،چلتی پھرتی چھاؤں ہے، آج ہے کل نہیں ہوگا۔آج کسی مصلحت کے تحت قانون خاموش ہے، کل اس کو زبان مل جائے گی۔نظریہئ ضرورت آئین سے بالا نہیں۔ آئین کی بالادستی سے ہمیشہ انکار ممکن نہیں۔جسٹس منیر کا فیصلہ ایک ماورائے آئین فیصلہ ہے، جو اسی کرسی پر بیٹھنے والا،اور فضا میں لہرائے گئے مکے سے نہ ڈرنے والا جسٹس جب چاہے منسوخ کر سکتا ہے۔چناچہ یہی ہوا،دوسرے چیف جسٹس نے آئین کی بالادستی بحال کردی۔آئین میں تبدیلی قومی اسمبلی کے دو تہائی ارکان کر سکتے ہیں۔یہ کام کوئی اسپیکر یا ایم این اے بھی تنہانہیں کرسکتا۔دو تہائی سے ایک رکن کم ہو تب بھی آئین میں تبدیلی ممکن نہیں۔اکیلا چیف جسٹس یا چند ججز پر مشتمل بینچ یہ کام ہر گز نہیں کرسکتا۔یہ استحقاق صرف قومی اسمبلی کوحاصل ہے۔واضح رہے پاکستان کا ہرسیاسی ورکرخواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہو آئین کی بالادستیسے واقف ہے۔وہ یہ بھی جانتا ہے کہ دنیا میں جن ممالک نے ترقی کی ہے وہ آئینی حدود میں رہتے ہوئے کی ہے۔آئین کو چند صفحات کی کتاب کہنے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے ملک میں پولیس، نیب، سمیت ادارے مفلوج ہوجاتے ہیں، ملکی امورمافیاز کے ہاتھوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ہائی کورٹ کے ججز کو اسی صوبے کا وزیراعلیٰ فون پر مخالفین کو فوری اور زیادہ سے زیادہ سزا دینے کا پیغام پہنچاتا ہے جو اسے اپنے بڑے بھائی (وزیراعظم) کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ماڈل ٹاؤن تھانہ(لاہور) کی پولیس میڈیا کی موجودگی میں نہتے شہریوں اور خواتین کو قتل کرنے لگتی ہے اور مقتولین کے خلاف ایف آئی آر بھی مدعی بن کر خود ہی درج کرتی ہے۔8سال کے دوران یہفیصلہ بھی نہیں کیا جاتا کہ مقدمہ کس عدالت میں چلایا جائے۔ملکی معیشت آئی سی یو میں ہے۔آئی ایم ایف کی انتہائی ناروا شرائط اور ڈالر کی قدر میں بے تحاشہ اضافے سے جان چھڑانے کے لئے ایک فیصد شرح سود پر چین سے 12ارب ڈالر کی درخواست کی جارہی ہے۔آج اپوزیشن اسی ملک پر حکمرانی کے لئے جدوجہد کر رہی ہے،جس پر اس نے 2018تک حکمرانی کی ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کئی دہائیوں تک ملکی معیشت کے بارے میں


