سوئس سیکرٹس میڈیا اور چاچا کپُی
تحریر: انورساجدی
جس طرح کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتیں نواز شریف نے قائم کی تھیں اور پھر جنرل مشرف نے انہی عدالتوں سے میاں صاحب کو عمر قید کی سزا دلوائی تھی اسی طرح عمران خان کے اسلام آباد دھرنے کے بعد میاں صاحب نے میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے ”پیکا“ کا قانون نافذ کیا تھا اسی کا فائدہ اٹھا کر عمران خان نے اس میں جابرانہ ترمیم کی تاکہ میڈیا کی زبان بندی ہو سکے اس قانون کی موجودگی میں میڈیا اپنی افادیت مزید کھو بیٹھتا لیکن اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے وزیراعظم کو سمجھایا کہ قانون یں بہت سارے سقم ہیں لہذا اس کے نفاذ سے حکومت کیلئے بہت مسائل پیدا ہونگے چنانچہ طے ہوا کہ سقم دور کر کے اسے نافذ کیا جائے اسی دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیکا کی ایک دفعہ معطل کی ہے جس کے تحت میڈیا پرسنز کو کسی بھی ناموافق خبر بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
پیکا کے نفاذ کے بعد میڈیا سے متعلق لوگ سوچ رہے تھے کہ وہ زندہ رہنے کیلئے کیا کریں کیونکہ اس کی موجودگی میں حکومت پر تنقید ممکن نہ تھی نہ ہی فوج اور عدلیہ کی بارے میں کوئی بات کہی اور لکھی جا سکتی تھی زیادہ سے زیادہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اپنا کردار بدل کر مدح سرائی اور مراثیوں کا کردار ادا کر سکتے تھے حکومت مخالف عناصر یعنی اپوزیشن کی خبروں کا بلیک آؤٹ کیا جاتا ورنہ ان کیلئے پانچ سال قید اور جرمانے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا
جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنے عروج کے دور میں جب سخت ترین سنسر شپ لگائی تھی تو اخبارات کو بادشاہ سلامت کی تعریف اور توصیف کے سوا دیگر خبروں کی اشاعت کی اجازت نہ تھی اس سے تنگ آ کر ڈان گروپ کے مرحوم اخبار حریت نے ضیاء الحق کی کوئٹہ آمد پر اخبار نویسوں سے گفتگو کی شہ سرخی اسی طرح لگائی تھی۔
راولپنڈی میں بارش اور کوئٹہ میں برفباری ہو رہی ہے، ضیاء الحق
حالیہ قانون کے نفاذ کے بعد میڈیا سے متعلق سینکڑوں یا ہزاروں لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ وہ حالات و واقعات کو کیسے پیش کریں یہ وہ زمانہ تو نہیں کہ فکشن لکھا جائے اور افسانوں کے ذریعے حالات کی منظر کشی کی جائے۔
جو سوشل میڈیا کی یلغار ہے اسے روکنا کسی ایک قانون کے ذریعے بھی ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اس پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے آن لائن نیوز ایجنسی اور جناح اخبار کے مالک محسن بیگ کو ایف آئی اے نے جس طرح گرفتار کیا اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے پوچھا کہ کیا ملک میں مارشل لاء نافذ ہے۔
اس طرح کے غیر قانونی کارروائیاں کی جاری ہیں یعنی اعلیٰ عدلیہ آئین کے تحت بنیادی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے دفاع کیلئے کمر بستہ ہے کیونکہ یہ اس کا آئینی فریضہ ہے۔
جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے خاتمہ سے قبل میڈیا اور اپوزیشن سے تنگ آ کر ایمر جنسی نافذ کی تھی ہو سکتا ہے کہ بابر اعوان جیسے لوگوں نے جو سورج مکھی کی طرح رخ بدلتے ہیں عمران خان کو ایمر جنسی لگانے کا مشورہ بھی دیا ہو تمام تر صورتحال میں ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ وزیراعظم جو کہ حکمران جماعت کے سربراہ ہیں جنہوں نے آئندہ الیکشن لڑنا ہے اور سیاست کرنی ہے وہ آمرانہ طرز عمل کیوں اختیار کر رہے ہیں ان کے دوست اور مشیر انہیں سمجھائیں وہ ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف نہیں ہیں وہ خود کو عوامی لیڈر کہتے ہیں اور وہ پرعزم ہیں کہ آئندہ انتخابات بھی وہی جیتیں گے اگر وہ اپوزیشن کو تسلیم نہیں کرتے میڈیا کو آمرانہ قوانین کے ذریعے زمین بوس کرنا چاہتے ہیں تو مستقبل میں ان کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا وہ بے خبر ہیں کہ سابق آمروں کا کیا حشر ہوا تھا اگر عمران خان نے اس ملک میں رہنا ہے بنی گالہ کے محل میں مقیم رہنا ہے اور زمان پارک کا محل نہیں چھوڑنا ہے تو وہ عوام کا سامنا کیسے کریں گے اور ان کی جماعت بطور پارٹی کیسے زندہ رہے گی۔
”پیکا کے قانون کے بعد کئی دلچسپ میمز اور لطائف سوشل میڈیا پر زبان زد عام ہیں کسی نے لکھا ہے کہ فیک نیوز کی سزا تو پانچ سال جیل ہے لیکن جھوٹے وعدے کر کے عوام کو دھوکہ دینے کی سزا پانچ سال اقتدار ہے“
پیکا میں یہ سقم ہے کہ اس میں فیک نیوز کی تشریح نہیں کی گئی ہے صرف میڈیا کو پابند کرنے کیلئے کسی بھی مخالفانہ خبر کو فیک نیوز قرار دیا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔
یہ سوال بھی اٹھا ہے کہ جو سیاستدان غلط نعرے غلط وعدے اور جھوٹ کے ذریعے عوام کو سبز باغ دکھا کر ووٹ بٹورتے ہین وہ کیا ہے؟ اس کی کوئی سزا کیوں مقرر نہیں ہے اگر ہے تو اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا۔
ایک لطیفے میں دکھایا گیا ہے کہ دلیپ کمار انارکلی سے کہہ رہے ہیں کہ اٹھو انارکلی آپ بنی گالا کی طرح پیر کر کے سو رہی ہیں اگر کسی نے دیکھ لیا تو پانچ سال قید کی سزا ہوگی۔
تحریک انصاف کو شکر ادا کرنا چاہئے کہ سوئس سیکرٹ میں اس کے کسی لیڈر کا نام نہیں آیا ورنہ میڈیا کا منہ بند کرنا مشکل ہوتا اس اسکینڈل میں جن دو شخصیات کا نام آیا ہے وہ تاریخی شخصیات ہیں ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے افغانستان فتح کر کے سوویت یونین کے ٹکڑے کر دیئے افغان جنگ کے بعد ان کے کارنامے بڑے مشہور ہوئے ان پر نامور صحافی ہارون الرشید نے فاتح کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی اور سوویت یونین کی تحلیل کا اصل ہیرو اسے قرار دیا۔
جنرل اختر عبدالرحمان کے بارے میں ہارون رشید نے جو کتاب لکھی لوگوں نے اس کے بے شمار میمز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالے ہیں مثال کے طور پر ایک رات جنرل صاحب نے اپنے مداح صحافی سے کہا یار تیری جیب میں دو سو روپے ہونگے کیونکہ میں نے اپنی تنخواہ افغان بیواؤں اور بچوں کو بھیج دی ہے انہوں نے جنرل صاحب کے گھر راشن نہ ہونے کا انکشاف بھی کیا کیونکہ وہ راشن مجاہدین کی مدد کو بھیجتے تھے بھائی وجاہت مسعود نے لکھا ہے کہ ہارون رشید نے یہ کتاب لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں اپنے مداحوں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر لکھی جس میں نہ جانے انہیں کیا کیا بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
لیکن سوئس سیکرٹ میں ان کے بینک اکاؤنٹس کا انکشاف جس میں مرحوم نے اپنے صاحبزادوں کے نام اربوں روپے ڈال رکھے ہیں ہارون الرشید اور ان کے جماعتی ساتھی اب کیا کہیں گے کہیں ایسا تو نہیں کہ ہارون رشید جنرل مشرف کی شفقت سے فیضاب ہو چکے ہیں وہ ضیاء الحق کے دور میں ان کے مداح تھے لیکن اچانک جنرل اختر عبدالرحمان ان کے ممدوح کیسے بن گئے۔
جہاد افغانستان میں کیا کچھ ہوا یہ ایک لمبی چھوڑی تاریخ ہے اس کی تفصیل عالمی مصنفین نے لکھ ڈالی ہے لیکن ہارون رشید کو جواب دینا پڑے گا کہ انہوں نے جنرل مشرف کے عیب اور عوارض کیوں چھپائے ان کی موت کے بعد ان کے صاحبزادوں ہمایوں اختر اور ہارون اختر نے پیپسی کی فرنچائز اربوں روپے میں خریدی اور شوگر ملیں بھی لگائیں لیکن کسی نے نہیں پوچھا کہ یہ سرمایہ کہاں سے آیا ہے نہ ہی جنرل زاہد اکبر علی سے پوچھا گیا کہ آپ نے سوئس بینک میں اربوں روپے کے اکاؤنٹس کیسے کھولے وہ پیسہ کہاں سے ایا تھا ایک طرف ریاست کی یہ فراخدلی اور چشم پوشی ہے دوسری جانب سیاستدانوں کے کرپشن پر درجنوں مقدمات چل رہے ہیں۔
جنرل پرویز مشرف نے خود ایک ٹی وی انٹرویو میں برملا اعتراف کیا تھا کہ جب سعودی فرمان روا شاہ عبداللہ کو پتہ چلا کہ لندن میں میرا کوئی مکان نہیں ہے تو انہوں نے آدھی رات کو سعودی سفارتخانہ کا عملہ اور بینک سٹاف میرے ہوٹل کے کمرے میں بھیجا جہاں میرا اکاؤنٹ فوری طور پر کھولا گیا ان سے پوچھا کہ فرمان روا نے تحفے میں جو رقم دی وہ کتنی تھی گھبرو جرنیل نے کہا کہ بہت رقم تھی لیکن وہ میں نہیں بتا سکتا پاکستان کے لوگ انتظار کریں کسی اور سوئس سیکرٹس میں ان کا نام بھی آ جائے گا اور معلوم ہو جائیگا کہ وہ رقم کتنی تھی۔
اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی نام نہاد اشرافیہ نے اپنی ریاست کو فیل اسٹیٹ بنانے میں مل جل کر جو کردار ادا کیا ہے اور جو گل کھلائے ہیں وہ دھیرے دھیرے منظر عام پر آ جائیگا لیکن کسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اختیار اور اقتدار انہی کے پاس رہے گا وہ دکھاوے کی خاطر لڑ رہے ہیں کسی نے کم کسی نے زیادہ کرتب دکھائے ہیں۔
ان کی ذہانت کا یہ عالم ہے کہ ایک دفعہ وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان کے بارہ موسم ہیں لیکن کسی وزیر اور مشیر کی جرات نہیں ہوئی کہ وہ انہیں بتا دیتے کہ آئندہ یہ نہیں بولنا ہے وزیراعظم دو روز قبل ایک بار پھر کہہ رہے تھے کہ پاکستان کے 12موسم ہیں کہنے کو تو نواز شریف سب سے بڑے اور مقبول لیڈر ہیں لیکن انہوں نے آج تک ایک کتاب بھی نہیں پڑھی۔
جنرل مشرف نے گھوسٹ آتھعر ہمایوں گوہر سے کتاب لکھوائی لیکن جب صحافی سوال پوچھتے تھے تو انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ انہوں نے کیا لکھا ہے۔
جیسے کہ وزیراعظم کو علم نہیں تھا کہ روس نے اپنی افواج کریمیا میں اتار دی ہیں وہ ایسے نازک موقع پر روس کے دورے پر چلے گئے انہیں اندازہ ہی نہیں کہ امریکہ اور یورپ کیا منفی پالیسیاں بنائیں گے۔
حکومتیں لاکھ میڈیا کی زبان بندی کریں لیکن عالمی میڈیا کا منہ کیسے بند کریں گے اور یورپ اور امریکہ سے چلنے والے سوشل میڈیا کے ہزاروں سائٹس کو کیسے خبریں دینے سے روکیں گے۔


