چیف سیکرٹری کی زیر صدارت نیشنل سیکورٹی پالیسی کے حوالے سے اجلاس منعقد

کوئٹہ:وزیر اعظم کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف اور چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا کی زیر صدارت نیشنل سیکیورٹی پالیسی کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکیورٹی پالیسی کے خدوخال اور اس پر صوبے میں عملدرآمد کو یقینی بنانے کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد ہاشم غلزئی، آئی جی پولیس محسن حسن بٹ، سیکرٹری خزانہ حافظ عبد الباسط، سیکرٹری ایمپلیمینٹیشن عبداللہ خان، سیکرٹری سوشل ویلفئیر عبدالطیف کاکڑ، سیکرٹری پاپولیشن ویلفئیر یاسر خان، کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ جبکہ ڈویژنل کمشنرز، ڈی ائی جیز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز نے بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی ایک جامع قومی سکیورٹی فریم ورک کے تحت شہریوں کے تحفظ، سکیورٹی اور وقار کو یقینی بنائے گی شہریوں کے تحفظ کی خاطر پالیسی کا محور معاشی سکیورٹی ہوگا اور معاشی تحفظ ہی شہریوں کے تحفظ کا ضامن بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی کا بنیادی مقصد شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور یہ پالیسی تمام اسٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے تیار کی گئی ہے اور اس میں معاشی تحفظ کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی اس کے شہریوں کی سکیورٹی سے وابستہ ہے اور پاکستان کسی بھی اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔ اجلاس میں صوبے میں حالیہ دہشتگردی واقعات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے پالیسی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا شہریوں پر مبنی اس سکیورٹی پالیسی کو یقینی بنانے کے لیے نیشنل سکیورٹی پالیسی نے معاشی سکیورٹی کو مرکز میں رکھا ہے۔ مضبوط معیشت اضافی وسائل پیدا کرے گی جو بعد میں منصفانہ طور پر تقسیم کیے جائیں گے تاکہ عسکری اور انسانی سکیورٹی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں بنیادی طور پر فوڈ سیکیورٹی، قومی وسائل کی سیکیورٹی، ملک کے لیے اندرون و بیرونی خطرات، اس کے علاوہ تیل کے ذخائر کتنے ہیں، مزید ذخائر کتنے تلاش کرنے کی ضرورت ہے، ملک میں پانی کی ضرورت کتنی ہے اور آئندہ برسوں میں کتنے وسائل کی ضرورت ہوگی اور ان کو کیسے استعمال میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی چھتری صوبائی حکومتیں اقدامات کریں گے جبکہ اس پالیسی پر عمل درآمد کے حوالے سے رپورٹنگ کا ایک میکنزم بھی وضع کیا جائے گا جس سے پالیسی پر عمل درآمد کے حوالے سے نظر رکھی جائے گی۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ ملک کو اپنی توجہ معیشت کو بہتر کرنے، بچوں کو تعلیم دینے اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر کرنے پر لگانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے علاقائی اتحاد اور تعاون بہت ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں