ٹھیکہ نہ دینے پر این ایل سی کا ایف بی آر کو زمین دینے سے انکار
اسلام آباد (انتخاب نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں انکشاف ہواہے کہ واہگہ باڈرپرٹرمینل بنانے کاٹھیکہ نہ دینے پر این ایل سی نے ایف بی آر کو زمین دینے سے انکارکردیا جس کی وجہ سے 5سال بعد بھی منصوبے پر کام شروع نہ ہوسکا۔حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ چمن،طورخم اور واہگہ باڈر پر ٹرمینلز بنانے تھے جن میں دو چمن اور طورخم کاٹھیکہ این ایل سی کودیاگیاجبکہ ایشائی ترقیاتی بینک نے واہگہ ٹرمینل کے لیے اوپن ٹینڈر کرنے کی شرط رکھی واہگہ باڈرپر کچھ زمین این ایل سی کی ہے اب وہ زمین نہیں دے رہے جس کی وجہ سے بینک لون کی منظوری نہیں دے رہا۔اب این ایل سی حکام کہتے ہیں کہ واہگہ ٹرمینل نہ بنائیں اس کے پیسوں سے باقی 7کراسنگ پوٹنٹس پر ٹرمینل بنائیں اوراس کاٹھیکہ ہمیں دیں ۔کمیٹی نے این ایل سی کی طرف سے زمین نہ دینے کی وجہ سے منصوبہ پانچ سال میں شروع نہ ہونے اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے منصوبے ختم کرنے پر شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے اگلے اجلاس میں این ایل سی کے سربراہ اور وزارت قانون کے حکام کوکمیٹی میں طلب کرلیا۔حناربانی کھراور عائشہ غوث پاشا نے کہاکہ کہاں ٹرمینل بناناہے اور کہاں نہیں یہ فیصلہ این ایل سی نے نہیں کرناہے کیا ان کو ٹھیکہ نہیں دیں گے تو یہ لینڈ پورٹ بنانے نہیں دیں گے ؟بلیک میلنگ افسوس ناک ہے ۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس امجد علی خان کی زیر صدارت ایف بی آر ہیڈہاوس اسلام آباد میں ہوا۔کمیٹی میں مخدوم سمیع الحسن گیلانی ،فہیم خان،محمداسرارترین،قیصر احمدشیخ،چوہدری خالد جاوید،علی پرویز،عائشہ غوث پاشا،نفیسہ شاہ،نوید قمر،حناربانی کھراور عبدالوسع نے شرکت کی ۔اجلاس میں چیرمین ایف بی آر اوروزارت خزانہ کے حکام نے شرکت کی ۔اجلاس میں حکام نے پی ایس ڈی پی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔کمیٹی کوپاکستان سنگل ونڈو پروگرام پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایاکہ سنگل ونڈو کے نفاذ کے بعد ملک کی برآمدات میں37فیصد اضافہ ہوگااور تاجروں کوسامان کے ملک سے برآمد اوردرآمد کرنے میں آسانی ہوگی۔مالی سال 2020-21میں 20ملین روپے دیئے گئے اور سب کے سب استعمال ہوگئے اس مالی سال 100ملین روپے دیئے گئے ہیں جن میں سے 22.855ملین روپے استعمال ہوگئے ہیں اس مالی سال کے اختتام تک تمام پیسے استعمال کرلیں گے۔اس منصوبے کے لیے اے ڈی بی نے بھی لون دینا ہے جس پر بات ہورہی ہے ۔ایشائی ترقیاتی بینک کی طرف سے لون ملے گا تو اس منصوبے کے لیے ہارڈ وئیرز خریدے جائیں گے ۔ڈیٹا سنٹر کے بارے میں امید ہے کہ اس سال بن جائے گا۔سنگل ونڈو پروگرام 77حکومتی اداروں کے ساتھ لنک ہوگا اور یہ عالمی معیار کا ہوگا ۔یہ منصوبہ تین سال میں تین فیز میں 2023میں مکمل ہوگا اس سال اپریل میں اس کاپہلا فیز مکمل ہوجائے گا ۔اس منصوبے سے سالانہ1.5ارب روپے کے کاغذات کا استعمال ختم ہوجائے گا ۔قیصر احمد شیخ نے کہاکہ ڈیڈھ سال گزر گئے ہیں اس کی وجہ سے کیا فائدہ ہواہے ۔ ارکان نے کہاکہ اس پروگرام کوجلد ازجلد مکمل کیاجائے اس سے پاکستان کافائدہ ہوگا۔جس کے بعد کمیٹی نے پی ایس ڈی پی کے سنگل ونڈو پروگرام کی منظوری دے دی گئی۔حکام نے کمیٹی کو انٹی گریٹیڈ ٹرانزیٹ ٹریڈ منیجمنٹ سسٹم کے حوالے سے بریفنگ دی ۔رکن کمیٹی نفیسہ شاہ نے کہاکہ بھارت کے ساتھ کھوکھراپار لینڈ پورٹ کوبھی کھولاجائے ۔پنجاب میں واہگہ کھل جاتاہے مگر سندھ کا نہیں لکھتاہے ۔جس پر کمیٹی نے وزارت سے جواب طلب کرلیاکہ واہگہ اگر کھلاہے تو کھوکھراپار کیوں نہیں کھولاجارہاہے ۔حکام نے انٹی گریٹیڈ ٹرانزیٹ ٹریڈ منیجمنٹ سسٹم کے حوالے سے بتایاکہ واہگہ طورخم اور چمن پر باڈرکراسنگ پوائنٹس کا انفرسٹکچربنائیں جانے تھے جس سے مسافروں اور سامان کی آمدورفت کاآسان بنایاجاناتھاجس کی کل مالیت 300ملین ڈالر ہے اور اس منصوبے کو2018میں شروع کیاگیا اوراس کو5سال میں 2023میں مکمل ہوناہے اس منصوبے پر عملی کام 43فیصد اورمالی خرچ40.5فیصد ہواہے۔طورخم پر چمن باڈر پر نیشنل لوجسٹک سیل( این ایل سی) نے کو ٹھیکہ دیاگیاہے جس پر کام ہورہاہے مگر واہگہ باڈر پر کوئی کام نہیں ہورہاہے ۔واہگہ باڈر پر کام اس لیے شروع نہیں ہوسکا کہ این ایل سی کہے رہاہے کہ یہ منصوبہ ہمیں دیا جائے جس کی وجہ سے وہ زمین کا این او سی نہیں دے رہا جو اے ڈی بی کی ریکوائرمنٹ ہے جس کی وجہ سے 2017سے آج تک اس پر کام نہیں ہوسکا ہے پورٹ کی توسیع نہیں ہوسکی ہے ۔ این ایل سی حکام کہے رہے ہیں کہ اگر واہگہ کا ٹھیکہ ہمیں نہیں دے سکتے تو اس کی رقم سے باقی 7لینڈ پورٹ بنادیں اوراس کاٹھیکہ ہمیں دے دیں ۔کمیٹی رکن حناربانی کھراور عائشہ پاشا نے کہاکہ این ایل سی زمین کیوں نہیں دے رہا اس کی وجہ سے منصوبہ تاخیر کاشکارہواہے این ایل سی کواگلے اجلاس میں بلایا جائے یہ تو بلیک میل کررہے ہیں کہ ہمیں زمین نہیں دی تو لینڈ پورٹ نہیں بنے دیں گے ۔حکام نے بتایاکہ ہم نے ایل این سی حکام کوبتایاکہ چمن اور طورخم باڈر پر ترمینل کاٹھیکہ سنگل سورس کرکے آپ کواس لیے دیاگیاہے کہ وہاں پر دہشت گردی تھی لاہور واہگہ باڈر پر تجارت ہورہی ہے جبکہ ایشائی ترقیاتی بینک نے بھی شرئط لگائی ہے کہ اس منصوبے کی اوپن ٹینڈر کیاجائے ۔واہگہ باڈر پرکل زمین 716کنال کی ضرورت ہے جس میں سے ایف بی آر کے پاس 287کنال 11مرلے ہیں جبکہ این ایل سی کے پاس430کنال زمین ہے مگر این ایل سی ہمیں یہ زمین نہیں دے رہی جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے شرط لگائی ہے کہ مکمل زمین کی این او سی آپ لائیں گے تو منصوبے کے لیے پیسے جاری کریں گے ۔ان لینڈز پورٹس کاچلانے کے لیے پاکستان لینڈپورٹ اتھارٹی بھی بنائی جائے گی ۔حناربانی کھر نے کہاکہ این ایل سی کون ہوتاہے جو کہتاہے کہ کہاں پورٹ بننا چاہیے یا نہیں بنناچاہیے یہ کھلی بلیک میلنگ کررہاہے کہ اگر ہمیں ٹھیکہ نہیں دیاجائے گاتو وہاں پر پورٹ نہیں بنے گی۔جس کے بعد کمیٹی نے متفقہ طورپر فیصلہ کرتے ہوئے ایجنڈاموخر کرکے اگلے اجلاس میں این ایل سی اور وزارت قانون کے حکام کوکمیٹی میں طلب کرلیا،کمیٹی نے کہاکہ این ایل سی کمیٹی میں وضاحت کرئے کہ وہ کیوں زمین نہیں دے رہی جس کی وجہ سے منصوبے ختم کیاجارہاہے ۔حکام نے کمیٹی کوپی ایس ڈی پی کے منصوبے پاکستان رائزیز ریونیو پروجیکٹ(پی آرآرپی )کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اس منصوبے کی کل مالیت400ملین ڈالر ہے جبکہ اس میں سے 80ملین ڈالر پی ایس ڈی پی سے آئے گا باقی رقم ورلڈ بینک دے گااس سے ریونیو میں اضافہ ہوگاکمیٹی نے منصوبے پر شید تحفظات کااظہارکیا اور کہاکہ اس طرح کے منصوبے عالمی بینک کے کہنے پر شروع کئے جاتے ہیں اور ان کے کہنے پر کنسلٹنٹ لاکھوں روپے پر رکھے جاتے ہیں اس منصوبے میں بھی دو کنسلٹنٹ لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھے گئے ہیں اس طرح کے منصوبوں سے فائدے کے بجائے نقصان ہوتاہے وہ منصوبے شروع کئے جائیں جن کے بارے میں ادارے خود بتائیں کہ ان کواس چیز کی ضرورت ہے ۔ارکان کے چلے جانے کے بعد باقی ایجنڈاموخر کردیاگیا۔


