وعدے چاٹیئے
تحریر: جمشید حسنی
اگر آپ کا خیال ہے میں آپ کو تازہ خبر بتاؤں گا تو کچھ تازہ نہین ہوگا۔آج کل سب لائیو ہے۔بریکنگ نیوز موقع واردات سے ہی حالات نشر براہ راست ہوتے ہیں۔اہم خبر ہے سعودی عرب میں 18افراد کو سزائے موت دی گئی۔ان پر داعش اور القاعدہ کے دہشت گرد ہونے کا الزام تھا۔میں سو چتا ہوں کیا ایک دن میں امریکہ یورپ میں اتنے افراد کو پھانسی دینا ممکن تھا۔کوئی انساحق حقوق کے تنظیموں کی آواز نہیں مغرب خوش ہے اس کے دشمن سعودی عرب مار رہا ہے۔مغرب داعش اور القاعدہ کے خلاف ہے۔مشرق وسطی کا کونسا ملک جمہوری ہے۔خلیج میں شیخ ہیں،سعودی عرب اردن مراکش بادشاہت ہے۔شام پر بشار الاسد قابض ہے۔لبنان لولی لنگڑی جمہوریت،لیبیا میں قذافی تھا مصر میں جمال عبدالناصر انور سادات حسنی تھے۔یمن خانہ جنگی سوڈان تقسیم ہوا نائیجریا بدامنی باقی افریقی ملکوں میں بھی کہیں مثالی جمہوریت نہیں مشرق وسطی میں تیل کی دولت ہے جس کے کچھ نہ کچھ مثبت معاشی اثرات لوگوں کے معیار زندگی پر ہیں ورنہ معیشت تو دوسرے ملکوں کے محنت کش کرتے ہیں۔نہ زراعت ہے نہ صنعت نہ ٹیکنالوجی نہ اعلیٰ تعلیم۔
آپ کو ملکی حالات سے دلچسپی ہوگی جناب ایک ہی چرچا ہے۔عدم اعتماد آپ کا کیاخیال ہے جیبیں بھرے تغیر سیاسی وفادارریاں اصولوں نظریات کی بنیاد پر ہوں گی چوہدری برادران کی نظر پنجاب کی حاکمیت پر ہے۔ایم کیو ایم کی نظر کراچی۔پر بلوچستان کے سردار اپنا اثر ورسوخ چاہتے ہیں۔جمعیت اور پشتونخواہ فی الحال آؤٹ ہیں۔جام،جمالی،جوگیزئی،رند،رئیسانی،ڈومکی،مگسی،مری،کھیتران،لونی،موسیٰ خیل،مندوخیل،بزنجو کس سردار کو اقتدار نہیں ملا،پشتونخواہ کو ملاسب نے ”واخلا مزے“کئے۔عام آدمی محروم۔ایک کچھی کینال نہ بن سکی کوئی موٹر وے نہیں۔گوادر میں کسی مقامی آبادی کو روز گار نہ ملا الٹا مچھیرے کہتے ہیں ہمارا روز گار چھن گیا ہے۔طلباء کو وظیفے نہ ملے گواد ر تک اندرون صوبہ کے لئے سڑک نہ بن سکی ایران افغانستان تجارت ذرائع آمدورفت کی سہولیات نہ بڑھ سکیں۔
تحریک عدم اعتماد ہے کیا فرق پڑے گا اطمینانی ہوگی عدم استحکام ہوگا کوئی آئے یا جائے رہے یا نہ رہے کیکارڈ اور ژاں بال سارترکا فلسفہ وجود لا وجود ملت و سنت پر ہے۔یہاں وجود سرمایہ دار کا ہے۔غریب نیست ہے۔امریکی فلسفی نے کہا غریب امیروں کے لئے سبسڈی ہے۔اس کے لئے نہ تو یہاں کوئی امید ہے نہ آخرت کی نیکی وہ کر نہیں سکتا۔برائی اس لئے نہیں کرتا کہ اس کی طاقت توفیق نہیں وہ محض امید پر زندہ ہے۔میں مایوسی نہیں پھیلا رہا کسی فلسفی نے کہا میں آپ کے مجھ سے اختلاف رائے کے حق کو تسلیم کرتا ہوں یہاں سب کچھ زبانی جمع خرچ ہے۔دعوے دعوے تردید یہ ہوگا وہ ہو گا ایک کروڑ نوکری پچاس لاکھ گھر تبدیلی نیا پاکستان۔
ایک امریکن نے سیاست پر کتاب لکھی نام تھالیٹ دیم اینٹ پرامزیز انہیں دعوے چاہیے دیں گھبرانا ابھی تک ڈیڑھ سال ہے۔


