انسداد دہشت گردی عدالت میں محسن بیگ کےخلاف کیس کاچالان جمع

اسلام آباد:اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پولیس نے سینئر تجزیہ کار محسن بیگ کے خلاف کیس کا چالان جمع کروادیا۔انسداد دہشت گردی عدالت میں محسن بیگ کے خلاف کیس کی سماعت جج محمد علی وڑائچ نے کی۔ محسن بیگ رہائی کے بعد عدالت میں پیش ہوئے۔

پولیس نے کیس کا چالان عدالت میں جمع کرا دیا۔ عدالت کی محسن بیگ کو کاپی فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔ محسن بیگ کے خلاف کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔دہشت گردی کیس میں پیر14 مارچ کو خصوصی عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے محسن بیگ محفوظ فیصلہ سنایا تھا۔عدالت نے 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض محسن بیگ کی ضمانت منظور کی۔

واضح رہے کہ محسن بیگ کی اسلحہ رکھنے کے کیس میں ضمانت پہلے ہی منظور ہوچکی تھی۔ ملزم محسن بیگ کی بعد ازگرفتاری درخواست ضمانت جوڈیشل مجسٹریٹ وقار حسین گوندل نے منظور کی تھی۔ ملزم کے خلاف تھانہ مارگلہ نے ناجائز اسلحہ کا مقدمہ نمبر 87 درج کیا تھا۔وکیل صفائی نے بتایا کہ مقدمہ میں لگی دفعہ قابلِ ضمانت جرم ہے لہذا ضمانت منظور کی جائے۔ عدالت نے 30 ہزار روپے مچلکوں پر ملزم محسن بیگ کی درخواست ضمانت منظور کی تھی۔

محسن بیگ کے خلاف غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا مقدمہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ دورانِ تفتیش محسن بیگ نے بتایا کہ جس پستول سے فائرنگ کی وہ گھر میں ہے،جس پر ملزم کے ہمراہ اس کے گھر جا کر 30 بور کا پستول برآمد کیا گیا۔

ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا کہ برآمد ہونے والے پستول کے میگزین میں 2 گولیاں بھی موجود تھیں۔ درج ایف آئی آر کے متن میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزم اس 30 بور کے پستول کا لائسنس یا اس کی اجازت کا ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ محسن بیگ کو ناجائز اسلحہ رکھنے کے کیس میں ڈیوٹی مجسٹریٹ شعیب اختر نے جوڈیشل ریمانڈ میں جیل بھجوانے کا حکم دیا تھا۔

محسن بیگ کو اسلام آباد میں واقع ان کے گھر پر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے اہلکاروں نے چھاپہ مار کر گرفتار کیا تھا۔ اس دوران محسن بیگ کی جانب سے ٹیم کے اہلکاروں کو زدوکوب بھی کیا گیا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق صحافی کی جانب سے گرفتاری کے دوران ٹیم پر براہ راست فائرنگ بھی کی گئی۔ ایک گھنٹے کی مزاحمت کے بعد ایف آئی اے اہل کار محسن بيگ کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ حکام کے مطابق مذکورہ صحافی کے خلاف وفاقی وزیر مراد سعید کی درخواست پر کارروائی کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں