23مارچ خیریت سے گزر جائے
عام حالات میں درج بالا دعائیہ کلمہ عام آدمی کی زبان پر نہیں آتا‘ لیکن آج کل امن کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر عام آدمی کی زبان پر مذکورہ بالا جملہ کثرت سے آرہا ہے جہاں چار آدمی جمع ہوں ایک دوسرے سے یہ ضرور پوچھا جاتا ہے ”عدم اعتماد کا کیا ہوگا“ اس پر دو رائے سنی جارہی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے وزیراعظم عمران خان کے پارٹی ارکان کی جانب سے بڑی تعداد نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا نے اس اظہار پر ناراضگی کو من وعن عوام تک پہنچادیا ہے جبکہ عوام کا عدم اعتماد کی قرار داد کی منظوری اور نا منظوری میں براہ راست کوئی کردار نہیں ہے۔ بالواسطہ کردار کے خدوخال ابھی بہت مدہم ہیں۔حکومت نے 23مارچ کی تقریبات کے انعقاد کو بڑی آسانی سے سوالیہ نشانہ میں ڈھالا اور اسے مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے نتھی کردیا۔ادھر اپوزیشن نے اس موقع پر کوئی مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی بجائے ہر پارٹی نے اپنی الگ سوچ کے مطابق بیان دینا شروع کردیا۔ مشترکہ بیان نہ آنے کے باعث عام آدمی کیلئے کسی ایسے نتیجے تک پہنچنا مشکل ہوگیا۔ عادم آدمی کو مشترکہ بیان سے جو توانائی ملتی ہے اس میں کمی آئی بلکہ بعض اوقات مایوسی کی جھلک بھی نظر آئی۔دوسری جانب حکومت کے وزراء بھی اپنی سوچ اور علم کے مطابق بیان جاری کرتے رہے۔ اگر قدرت وزرائے خارجہ کے اجلاس کی صورت میں مدد نہ کرتی تو آج سڑکوں پر مختلف مناظر دیکھے جاتے۔ ان مناظر میں حکومتی رعب ودبدبہ پانی کی طرح بہتا ہوا محسوس ہوتا۔23مارچ کی تقریبات نے حکومت کو نئی تقوت پہنچائی اپوزیشن نے درست اندازے نہیں لگائے۔ جب عوامی موڈ کا درست علم نہ ہو تو درست انداز میں تحریک کو قدم بہ قدم آگے بڑھانا مشکل ہوجاتا ہے۔ تاہم یہ وقت کسی بڑی بدمزگی کے بغیر گزر گیا‘ عوامی تشویش میں کمی لانے میں موافق حالات وواقعات کا رونما ہونا بھی حکومت کے پلڑے میں گیا۔ 23مارچ کو اگر کوئی ہولناک واقعہ پیش نہ آیا تو تشویش میں کمی بیشی کا انحصار پانچ دن کی صورت حال پر ہوگا۔اپوزیشن اپنی قوت کا مظاہرہ 24‘25مارچ کو کرے گی اور 26مارچ کو اسلام آباد روانہ ہو جائے گی۔ وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے جلسے میں آنے والوں کو الگ الگ روٹ سے آنے اور جانے کی اجازت دی جائے گی۔ انہیں کامل یقین ہے کہ اس پیشگی حفاظتی انتظام اور منصوبہ بندی کے نتیجے میں کسی تصادم کا امکان نہیں۔ عام آدمی کی پریشانی صرف دونوں پارٹیوں کے براہ راست تصادم تک محدود ہے۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کا کام شروع ہوجائے گا۔ اور رائے شماری میں سیاہ اور سفید دھاری الگ نظر آئے گی۔ دوغلے بیانات کے پیچھے کوئی نہیں چھپ سکے گا۔ اور وزیراعظم عمران خان حکومت کا حصہ رہیں گے یا اپنے اعلان کے مطابق اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں گے اس کا فیصلہ سامنے آچکا ہوگا۔ اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے۔کون کب یوٹرن لے گا اس کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی چنانچہ عوامی حلقے کا ذہنی کرب ابھی کچھ عرصہ دور نہیں ہوگا چنانچہ ہر شے جوں کی توں رہے گی۔ تاہم زیادہ دیر تک ابہام کا جاری رہنا کسی کے فائدہ میں نہیں دراصل اس کیفیت کو اعصابی جنگ کہنا زیادہ بہتر ہے جس فریق کے اعصاب مضبوط ہوں گے اس کی فتح یقینی ہے تاہم یہ طے شدہ ہے کہ پاکستان کے حالات گومگو کی کیفیت کا اندازہ مشکل دکھائی دیتا ہے کوئی فریق پورا سچ بولنے کو تیار نہیں اور آدھے سچ کا تجزیہ کرنے سے شکوک ختم نہیں ہونگے۔ کبھی یوں لگتا ہے اپوزیشن اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے گی جبکہ دوسرے لمحے حکومت کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ بہر حال دونوں میں سے کوئی ایک فیصلہ ہوجائے تو دوسرے فریق کو اپنی شکست تسلیم کرلینی چاہئے مگر ہار کا اعلان کوئی فریق تسلیم کرنے کو تیار نہیں اس کشمکش کا خاتمہ نہ ہوا تو حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے اور کھیل دونوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گا اس بارے میں سنجیدگی سے نہ سوچا گیا تو بعد از مرگ واویلا کسی کو فائدہ نہیں دے گا۔ طویل انتظار کے دوران امیدیں دم توڑ جائیں گی۔ اس بارے میں کوئی فکر مند نہیں۔ لندن کی میڈیا رپورٹس بھی چند ماہ سے قابل اعتماد نہیں رہیں لیکن آثار نمایاں ہیں کہ برطانوی حکومت کرپشن کی سرپرستی زیادہ دیر قائم نہیں رکھ سکے گی۔ عالمی نفسیات بھی لمحہ بہ لمحہ حالات حاضرہ کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ پاکستانی سیاست کے تمام کرداروں کو اس حوالے سے بھی سوچنا ہوگا۔ خطے کے حالات سے علیحدہ رہنا ممکن نہیں اس بارے میں سنجیدہ بحث درکار ہے۔ ان حالات میں پاکستانی عوام محض تماشائی رہیں گے۔ اگر دونوں فریق اپنے حامیوں کو سردھڑ کی بازی لگانے پر تیار کرلیں تب بھی بھیانک تصادم کا نتیجہ حیران کن رہے گا۔ مبصرین بھی دو رائے نہ دیں تو پیچیدگی‘ الجھن‘ پریشانی میں اضافہ ہوگا اور ابہام سب کچھ لپیٹ سکتا ہے۔ فریقین دانشمندی سے کام لیں پرامن بقائے باہمی پر اتفاق کیا جائے آنے والے کل کی فکر کی جائے۔


