اصل معرکہ پارلیمنٹ میں ہوگا
اس میں شک نہیں کہ امریکہ کے حوالے سے حکومت کو سفارتی ذریعے سے موصولہ رپورٹ پر وزیر اعظم عمران خان کے سخت رد عمل نے عالمی سطح پر بھی ارتعاش پیدا کیا ہے۔مرتعش لہریں بیک وقت وائٹ ہاؤس، بیجنگ اور ماسکو میں بھی محسوس کی گئیں۔امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان اور وائٹ ہاؤس نے پاکستان کی شکایت پر میڈیا کے روبرو کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے حامی ہیں، الزامات درست نہیں۔جبکہ پاکستان میں قائم مقام ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے امریکی سینئر عہدیدار کے الفاظ اور اندرونی معاملات میں مداخلت پر احتجاجی مراسلہ دیا گیا، یہ اقدام قومی سلامتی کمیٹی کی ہدایت پر کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے غیر ملکی اہلکار کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے غیر سفارتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی بھی طرح کی مداخلت نا قابلِ برداشت ہے۔ چین کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم ہمیشہ کی طرح پاکستان کی قومی خودمختاری کے تحفظ میں مدد کریں گے، پاکستان گہرا دوست ہے، ہر طرح کے حالات میں تعلقات کو فروغ دیں گے۔ ہیں، سرد جنگ والا ماحول پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، علاوہ ازیں سی پیک منصوبے کو افغانستان تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری جانب روس کے صدر پوٹن نے روسی گیس کی ادائیگی مقامی کرنسی روبل میں کرنے کی منظوری دے دی ہے، یکم اپریل سے غیر ملکی خریدار روسی گیس مقامی کرنسی روبل روبل میں خریدیں گے۔غیر ملکی خریداروں کو روس کے بینکوں میں روبل اکاؤنٹ کھولنا ہوں گے اور انہی اکاؤنٹس کے ذریعے آج سے ادائیگی کی جائیبگی۔روبل میں ادائیگی نہ کرنے پر خریداروں کو ڈیفالٹر تصور کیا جائے گا، موجودہ معاہدے کالعدم قرار دیئے جائیں گے۔روس کی جانب سے مقامی کرنسی میں ادائیگی شروع ہونے سے ڈالر اور پونڈ کو یقینا دھچکہ لگے گا۔ڈالر کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی، دنیا اپنی مقامی کرنسی میں تجارت کرے گی۔عالمی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین بہت پہلے بھانپ گئے تھے کہ کابل سے انخلاء کے بعد امریکہ کے لئے نمبر ون عالمی طاقت رہنا ممکن نہیں ہوگا، اس کا کردار اس حوالے سے بتدریج کمزور ہوتا چلا جائے گا۔جیسے تین دہائیاں قبل روس بھی معاشی مشکلات کا شکار ہونے کے علاوہ متعدد ریاستوں کی علیحدگی جیسے سیاسی مسائل سے دوچار ہوا تھا۔امریکہ مانے یا نہ مانے،افغانستان میں نیٹو حامیوں کے ہمراہ پسپائی سے اس کی عالمی ساکھ بری طرح متأثر ہوئی ہے۔آنے والے دنوں میں امریکہ کو اندازہ ہو جائے گا کہ سیاسی و معاشی لحاظ سے وہ بڑی مشکلات میں پھنس چکا ہے۔یاد رہے جنگ خواہ چھوٹے اور کمزور ممالک سے کیوں نہ کی جائے، ایک مہنگا کھیل ہے، اس میں ملکی وسائل عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے اسلحہ اور فوجی اخراجات پر خرچ کئے جاتے ہیں۔عوامی مسائل کے لئے درکار فنڈز کم ہو جاتے ہیں یا نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔امریکہ 1945سے حالت جنگ میں ہے۔ابتداء میں اس نے ایٹم بم کی دہشت کو بھرپور انداز میں کیش کرایا لیکن دھیرے دھیرے متعدد ممالک ایٹمی طاقت بن گئے۔یادرہے امریکی معیشت کا دارومدار اسلحہ کی فروخت پر ہے،یہی وجہ ہے کہ امریکہدوست فشمن کی تخصیص کے بغیر ہر اس ملک کو خبردار کرتا ہے جو روس سے اسلحہ خریدنے میں دلچسپی رکھتاہو،اسے سخت الفاظ میں کہا جاتا ہے کہ روس سے اسلحہ خریدنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ امریکی تھنک ٹینکس کو ابھی تک یہ علم نہیں ہوایا اس نے دانستہ اس حقیقت سے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں کہ اسلحہ سازی میں امریکہ کو بلا شرکت غیرے اجارہ داری حاصل نہیں رہی۔ایک سے زائد ملک آج مارکیٹ میں امریکہ سے سستا اور بہتر اسلحہ فروخت کر رہے ہیں۔ ان میں چین اور روس کے علاوہ ترکی،اور پاکستان بھی شامل ہیں۔آج نہیں تو کل امریکہ جان لے گا کہ یوکرین کی روس سے جنگ میں امریکی ڈالر خرچ ہونے کا نقصان بھی آخرکار امریکہ کو برداشت کرنا پڑے گا۔روس نے مکمل سوچ بچار کے بعد امریکہ سمیت نیٹو ممالک کو اپنی سرحدں سے دور رکھنے کے لئے یوکرین میں اپنی افواج بھیجیں۔روس کا ایک ہی مرکزی مطالبہ ہے کہ یوکرین روس کا پڑوسی ملک ہونے کی بناء پر امریکہ اور نیٹو ممالک کو فوجی اڈے فراہم نہیں کرے گا۔ دیگر مطالبات ذیلی اور ضمنی ہیں۔جلد یا بدیر یوکرین روس کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔اس لئے کہ امریکہ اور نیٹو ممالک زبانی کلامی بیان بازی کے سوا ابھی تک کچھ نہیں کر سکے۔یورپی ممالک کی توانائی کی ضرورت روس پوری کرتا ہے۔امریکی پابندیوں کے باوجود یورپی ممالک روس سے گیس اور تیل حاصل کر رہے ہیں۔انہیں علم ہے کہ امریکہ دیر تک چاہنے کے باوجود اتنی بڑی ضرورت پوری نہیں کر پائے گا۔سیانے بہت پہلے کہہ گئے ہیں کہ سیاست معیشت کے تابع ہوتی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی اپوزیشن اور اب امریکہ بھی 90کی دہائی میں جی رہے ہیں۔ورنہ ان کے بیانات اور سیاسی اقدامات میں اس قدر مماثلت نہ ہوتی۔اپوزیشن کے لئے امریکی وزارت خارجہ کے حالیہ اقدامات بالخصوص سفارتی رپورٹ فائدے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔شاید امریکہ کو بھی توقع نہیں تھی کہ پاکستان کی طرف سے اتنا سخت رد عمل سامنے آئے گا۔واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے ایسا رد عمل پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا ہے، امریکہ اور پاکسنی اپوزیشن کواس کے مضر نتائج برداشت کرنے پڑیں گے۔حکومت اس معاملے کوسڑکوں پر لے آئی ہے۔ اپوزیشن پہلے ہی سڑکوں پر ہے۔عام آدمی کو اندیشہ لاحق ہے کہ خدا نخواستہ صورت حال محاذ آرائی کی جانب نہ مڑ جائے۔حالانکہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ قومی اسمبلی کے فلور پر ہونا ہے۔اور قومی اسمبلی کے 341اراکین کو کرنا ہے۔172اراکین اپنی فہم و دراست سے جو فیصلہ کریں گے وہی حتمی فیصلہ تسلیم کیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان ایک سے زائد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ اپوزیشن بینچوں بیٹھنے کو تیار ہیں۔بعض وزراء بھی دبے لہجے میں اسی قسم کا اشارہ دے رہے ہیں۔وزیر داخلہ تو جمعہ اورہفتہ کی درمیانی رات کو بہت اہم قراردے رہے ہیں۔اس قسم کی گفتگو سے یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ معاملہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، حتمی فیصلہ (اگر کوئی انہونی نہ ہوگئی تو) پارلیمنٹ کے فلور پر اتوار کوہوگا۔نہ جانے کیوں عام آدمی کی زبان پر ہے:”خدا خیر کرے!“


