بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے وی سی کی مدت ملازمت میں توسیع کالعدم

کوئٹہ (انتخاب نیوز) چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جناب جسٹس نعیم اختر افغان اور جناب جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز سے متعلق دو آئینی درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے بی یو ایم ایچ ایس کے پہلے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کی بطور وائس چانسلر مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کے نوٹیفکیشن کو قانونی طور پر بے اثر و کالعدم قرار دے دیا ہے یہ نوٹیفیکیشن اس وقت کے چانسلر بی یو ایم ایچ ایس نے مورخہ 6 جولائی 2021 کو جاری کیا تھا جس کے تحت مورخہ یکم اگست 2021 سے پروفیسر ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کو مزید تین سال کے لئے مدت ملازمت میں توسیع دی گئی تھی معزز عدالت نے اپنے فیصلے میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے چانسلر کو حکم دیا ہے کہ وہ وائس چانسلر کے انتخاب /تعیناتی کے لیے 2017 کے ایکٹ کی دفعات کے مطابق طریقہ کار اپنائیں عدالت نے سی پی 1582 /2021 کو قبول کرتے ہوئے بی یو ایم ایچ ایس کے سٹیٹوٹس (قوانین) 2018 کی شق(3)(2)(1)3اور(4) کو کسی شخص کے لیے مخصوص کرنے اور یونیورسٹی ایکٹ 2017 سے متصادم ہونے پر بھی قانوناً بے اثر کالعدم قرار دے دیامعزز عدالت نے سی پی نمبر 04 18/ 2021 کو ان احکامات کے ساتھ نمٹایا کہ روزنامہ جنگ کوئٹہ میں رجسٹرار بی یو ایم ایچ ایس کی جانب سے مورخہ 17 نومبر 2021 کو جن مختلف پوسٹوں کے لیے تشہیر کی گئی ہے ان خالی آسامیوں کو نئے تعینات وائس چانسلر ہی سختی سے میرٹ پر پر کرینگے۔معزز عدالت نے قبل ازیں فریقین کے وکلاءاور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل سنے اور دستیاب ریکارڈ کے جائزے سے یہ بات عدالت عالیہ پر عیاں ہوئی کہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کا قیام مورخہ 22 دسمبر 2017 کے ایکٹ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز 2017 کے تحت کیا گیا اسی قانون کی عبوری شق سیکشن(2)52 کی روشنی میں (سی پی نمبر 82 15/ 2021 میں جوابدہندہ نمبر 2 اور سی پی نمبر 24 18/ 2021 میں جواب دہندہ نمبر1) پروفیسر ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کو اس وقت کے بی یو ایم ایچ ایس کے چانسلر نے تین سال کے لئے یونیورسٹی کا پہلا وائس چانسلر تعینات کیا تھا اور مورخہ یکم اگست 2018 کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ان کی یہ مدت یکم اگست 2018 سے شروع ہوئی۔ پروفیسر ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی کی اس تعیناتی کو سی پی نمبر 11 10/ 2018 اور سی پی نمبر 978 /2018 کے ذریعے عدالت عالیہ میں چیلنج کیا گیا جسے عدالت عالیہ نے مشترکہ فیصلے مجریہ 31 اگست 2018 کے ذریعہ مسترد کر دیا تھا۔ مذکورہ وائس چانسلر کی مدت ملازمت یکم اگست 2018 کو ختم ہونی تھی لیکن ان کی مدت مکمل ہونے سے قبل اس وقت کے چانسلر بی یو ایم ایچ ایس نے بی یو ایم ایچ ایس کے قوانین اور ایکٹ 2017 کے سیکشن(1)14 اور (2)52 کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ہوئے انہیں زیر اعتراض نوٹیفیکیشن مجریہ6 جولائی 2021کے ذریعے مزید تین سال کے لئے توسیع دے دی تھی جبکہ اگلے ہی روز یعنی 7 جولائی 2021 کو چانسلر خود گورنر بلوچستان کے عہدے سے مستعفی ہو گئے معزز عدالت کو استفسار پر یہ بھی بتایا گیا کہ بی یو ایم ایچ ایس سٹیٹوٹس 2018 تاحال آفیشل گزٹ کے لیے اعلان نہیں کیے گئے ہیں معزز عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ سٹیٹوٹس 2018 تفویض کردہ/ ثانوی/ ماتحت قانون سازی ہے جبکہ2017 ایکٹ بنیادی قانون سازی ہے اور قانون کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ایک قانون بنانے والا ادارہ قانون /قواعد اور ضوابط کو اس پرائمری ایکٹ کی بنیادی دفعات سے متصادم یا ان کی تضحیک میں نہیں بنا سکتا- قانون/ قواعد و ضوابط اس ایکٹ /بنیادی قانون سازی کے دائرہ کار سے باہر نہیں جا سکتے ان قوانین/ قواعد و ضوابط کو اس ایکٹ /بنیادی قانون سے متصادم نہیں بنایا جاسکتا ہے 2017 کے ایکٹ کی دفعہ (4)15 کے مطابق وائس چانسلر کی مدت ان شرائط و ضوابط پر تین سال ہوتی ہے جو کہ قانون کے ذریعے بیان کی گئی ہے اور عہدے پر براجمان وائس چانسلر کی مدت میں توسیع نہیں کی جا سکتی ہے اگر چہ ان کی سروس کی شرائط و ضوابط آئین کے ذریعہ تجویز کیے جا سکتے ہیں لیکن ان کی مدت ملازمت میں 2017 کے ایکٹ کی دفعات کی توہین کرتے ہوئے تین سال کی مدت کی توسیع نہیں کی جاسکتی بی یو ایم ایچ ایس کی سینیٹ اور سینڈیکیٹ 2018 کے قوانین کو 2017 کے ایکٹ کی بنیادی شق سے متصادم یا اس کی تضحیک میں نہیں بنا سکتے۔ معزز عدالت نے مزید ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ طے شدہ اصولوں کے مطابق ایسے قوانین جو فرد کے لیے مخصوص ہوتے ہیں نافذ نہیں کیے جا سکتے کیونکہ کسی فرد کے لئے مخصوص قوانین اقربا پروری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور انصاف کے نظم و نسق کو فروغ دینے کی بجائے شہریوں کے درمیان نا انصافی کا باعث بنتے ہیں اور یہ امتیازی ہونے کے ساتھ ساتھ برابری کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے جس کی ضمانت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کے آرٹیکل 25 میں دی گئی ہے۔ لہذا سٹیٹوٹس 2018 کی شق(4)(3)(2)(1)3 اور 6 جولائی 2021 کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں