بلوچستان اسمبلی میں ےونےورسٹےز اےکٹ کو زبردستی پاس کیا گیا، پشتونخوا میپ

کوئٹہ (انتخاب نیوز ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سےکرٹرےٹ کے جاری کردہ پرےس رےلےز مےں صوبائی حکومت کی جانب سے صوبائی اسمبلی کے رولز قواعد وضوابط کے خلاف ےونےورسٹےز اےکٹ 2022کو زبردستی پاس کرنے کی شدےد مذمت کرتے ہوئے کہا گےا ہے کہ حکومت نے جنرل مشرف کے دور کے ماڈل ےونےورسٹےز اےکٹ کی منظوری دےنے کا مقصد دراصل صوبے کو مزےد تباہی وبربادی کے دہانے پر پہنچانا ہے۔ بےان مےں کہا گےا ہے کہ صوبائی اسمبلی مےں قوائد وضوابط کے برخلاف صوبائی پشتون بلوچ صوبے کے جامعات کا مسودہ قانون مصدرہ 2022کو صوبائی اسمبلی کی سٹےنڈنگ کمےٹی برائے تعلےم سے منظوری بھی نہےں لی گئی اور ےکطرفہ فےصلے اور محکمہ تعلےم سمےت سب کو نظر انداز کرکے اسمبلی سے اس کی منظوری لے لی گئی جس کے باعث صوبے کی تمام سرکاری جامعات کی پالےسی ساز اداروں خصوصاً سنڈےکےٹ ،سےنٹ ،اکےڈمک کونسل ،فنانس اےنڈ پلاننگ کمےٹی اور دےگر فےصلہ ساز اداروں مےں اساتذہ ،آفےسرز ، ملازمےن اور طلباءوطالبات خصوصاً ممبران صوبائی اسمبلی کی منتخب نمائندگی بھی ےکسر ختم ہوجائےگی اوراس کے بعد من پسند افراد کی تعےناتےوں وترقی مےرٹ کی پائمالی پر مبنی اقدامات شروع ہونگے۔اور دوسری جانب اسمبلی فلور پر اےک بار پھر تعصب ونفرت کی فضاءپھےلانے کی نشاندہی گزشتہ روز اسمبلی کے اجلاس مےں حکومتی اراکےن کے تقارےر سے واضح ہوچکی ہے۔ بےان مےں کہا گےا ہے کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی نے پہلے بھی اس اےکٹ کی مخالفت کی تھی اور آج بھی مخالفت کرتے ہوئے تمام سےاسی جمہوری پارٹےوں ، طلبائ،سول سوسائٹی ، پروفےسرز، اساتذہ سے اپےل کرتی ہے کہ وہ اس آمرانہ اےکٹ کےخلاف آواز بلند کرتے ہوئے اپنا جمہوری کردار ادا کرےں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں