پی ٹی آئی کی جانب سے اداروں کیخلاف منظم مہم چلانے کے شواہد نہیں مل سکے

اسلام آباد (انتخاب نیوز) ایف آئی اے نے انکشاف کیا ہے کہ اداروں کے خلاف مہم چلانے والے زیادہ تر اکانٹس کا تعلق بھارت سے تھا، اداروں کے خلاف مہم میں یورپ اور دیگرممالک سے بھی اکانٹس استعمال ہو رہے ہیں۔ایف آئی اے نے پی ٹی آئی کے کچھ سوشل میڈیا ورکرز کو حراست میں لیا ہے تاہم تحقیقات کے دوران پی ٹی آئی کی جانب سے منظم چلانے کے شواہد نہیں مل سکے۔رپورٹ کے مطابق اب تک صرف زیر حراست شفقت مقصود سے منظم مہم چلانے کے شواہد ملے ہیں اور شفقت مقصود کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے۔ایف آئی اے کی جانب سے کارروائی کے لیے منظم مہم کے شواہد ضروری ہیں۔ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق ایف آئی اے بغیر نوٹس گرفتاریاں نہیں کر سکتی اس لیے گرفتاریوں اور دفعات لگانے میں ایف آئی اے شش و پنج کا شکار ہے۔ایف آئی اے کے مطابق اداروں کے خلاف مہم چلانے والے زیادہ تر اکانٹس کا تعلق بھارت سے تھا، جب کہ یورپ اور دیگر ممالک سے بھی اکانٹس استعملال ہو رہے تھے۔دوسری طرف وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اہم شخصیات اور حساس اداروں کے خلاف سوشل میڈیا ٹرینڈز چلانے والے 8 افراد کو گرفتار کر لیا ہے ، آرمی چیف کے خلاف ٹویٹر ٹرینڈ چلانے والے سرغنہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ، اس حوالے سے ایف آئی اے نے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے ، اس دوران لاہور سے 2 ، گجرات اور فیصل آباد سے 8 افراد کو گرفتار کیا گیا ، یہ چھاپے ایف آئی اے انسداد دہشت گردی اور سائبر کرائم ونگ کی جانب سے مارے گئے۔اس حوالے سے ایف آئی اے نے بتایا کہ 50 افراد سینکڑوں جعلی اکانٹس آپریٹ کر رہے ہیں ، متعدد اکانٹس بیرون ملک سے آپریٹ کیے جا رہے ہیں ، آرمی چیف کے خلاف ٹویٹر ٹرینڈ چلانے والے مقصود عارف کو لاہور سے گرفتار کیا گیا ، ایف آئی اے نے مقصود عارف کو سبزہ زار لاہور سے گرفتار کیا ، 21 سے زائد سوشل میڈیا اکانٹس فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے تھے ، تمام اکانٹس ایف آئی اے کو رپورٹ کیے گئے ہیں ۔ذرائع نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والے اکانٹس اور پیجزکی چھان بین جاری ہے ، تحقیقات کا آغاز درخواست نہیں وزارت داخلہ کے احکامات پر ہوا ، نفرت انگیزموادپھیلانے والے اکانٹس کی تعداد کا پتہ چلایا جارہا ہے، فوج، عدلیہ مخالف مہم چلانے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں