افغان صوبے کنڑ اور خوست پر جیٹ طیاروں کی بمباری، ہلاکتوں کا امکان

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں افغان حکومت کی وزارت دفاع نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے جیٹ طیاروں نے سنیچر کی صبح افغانستان کے صوبہ کنڑ اور صوبہ خوست کے کچھ حصوں پر گولہ باری کی جس سے بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ پاکستان میں سرکاری ذرائع نے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، تاہم افغان حکومت کے مختلف ذرائع کے مطابق ان صوبوں میں پاکستانی فضائی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے کابل میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان کو طلب کرلیا ہے۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’افغان حکام نے خوست اور کنڑ کے کچھ حصوں میں پاکستانی افواج کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی اور اس مزید ایسے حملے نہ کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستانی سفیر سے کہا ہے کہ خوست اور کنڑ سمیت تمام فوجی خلاف ورزیوں کو روکنا ضروری ہے اور اس طرح کے واقعات سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ جس کے برے نتائج ہوں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیر خارجہ امیر خان متقی کے علاوہ پاکستانی سفیر سے ملاقات میں افغانستان کے نائب وزیر دفاع الحاج ملا شیریں اخوند نے بھی شرکت کی۔ اسلام آباد میں افغانستان کے سفارتخانے کے ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز وزیرستان میں پاکستانی سیکورٹی فورسز پر حملوں کے بعد پاکستانی حکام نے افغان سفیر کو ایک خط بھیجا تھا جس میں کیا گیا تھا کہ حملہ آور افغانستان سے آئے تھے۔ ذرائع کے مطابق یہ خط کابل بھیجا گیا اور وہاں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ لیکن بد قسمتی سے تحقیقات سے پہلے ہی پاکستانی طیاروں نے گزشتہ رات خوست اور کنڑ میں بمباری کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں