لسبیلہ یونیورسٹی میں غیر مقامی خاتون کی بھرتی پر مقامی حلقوں کا شدید رد عمل

اوتھل (انتخاب نیوز) لسبیلہ کے حقوق پر ایک اور ڈاکہ لسبیلہ یونیورسٹی میںPBS-14 کی آسامی پر ایک غیر لوکل فی میل بھرتی ہوکر آنے کابڑا انکشاف ذرائع، مقامی بیروز گار تعلیم یافتہ میل اور فی میل روزگار کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور،تفصیلات کے مطابق باخبر ذرائع کے مطابق لسبیلہ یونیورسٹی میں گذشتہ ہفتے ایک غیر لوکل خاتون بھرتی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ غیر لوکل فیمیل سکیورٹی سپروائزر PBS-14 نام یعقوت بنت نور محمد ضلع کیچ گذشتہ ہفتے بھرتی ہوکر باقاعدہ ڈیوٹی کررہی ہے یہ امر مقامی لوگوں کے ساتھ سراسر ناانصافی کے مترادف ہے لسبیلہ کے مقامی چاہے میل ہو یا فیمیل وہ ڈگریاں ہاتھ میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور غیر لوکل بغیر انٹرویو اور بغیر اشتہار کے بھرتی ہوکر یہاں تعینات ہوجاتے ہیں یہ مقامی لوگوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے مترادف ہےاسی پوسٹ پر ایک مقامی فیمیل کنٹریکٹ پر تعینات تھی مقامی فیمیل کو نکال کر اس غیر مقامی کو مستقل طور پر بھرتی کیا گیا ہے جس پر لسبیلہ کے عوامی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ لسبیلہ کے بیروز گار نوجوانوں کے حقوق ڈاکہ ڈالا گیا ہے اگر وائس چانسلر نے اس کے آرڈر منسوخ نہ کیے تو ہم پورے لسبیلہ میں غیر لوکل کے بھرتی ہونے پر احتجاج مظاہرہ کریں گے لسبیلہ کے عوامی حلقوں نے وزیر خزانہ سردار صالح محمد بھوتانی ،سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب جام کمال خان عالیانی، ایم این اے لسبیلہ گوادر محمد اسلم بھوتانی،ایم پی اے مکھی شام لعل لاسی،سینیٹر محمد قاسم رونجھو،سینیٹر دھنیش کمار پلیانی سے مطالبہ کیا ہے کہ لسبیلہ یونیورسٹی میں غیر لوکل افراد کی بھرتی پر فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔اور ایسا لائحہ عمل طے کیا جائے کہ آئندہ کسی بھی محکمے میں غیر مقامی افراد بھرتی نہ ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں