نوکنڈی میں سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کیخلاف دالبندین میں مکمل شٹر ڈاؤن
چاغی (انتخاب نیوز) سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہونے والا ڈرائیور اور نوکنڈی اور چاگئے کے مظاہرین پر فائرنگ کے خلاف نیشنل پارٹی، بی این پی،بی ایس او پجار کی کال پر دالبندین میں مکمل شٹرڈاون ہڑتال رہا تمام کاروباری مراکز بند رہے اس موقع پر نیشنل پارٹی دالبندین کے صدر ظفر بلوچ ودیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پر امن مظاہرین پر فائرنگ کرنا ایک انتہائی افسوسناک عمل ہے جس کی تدارک ہونا چایئے انھوں نے مزید بتایا گزشتہ ایک ہفتہ سے ضلعی چاغی میں ایک غیر یقینی صورتحال جنم لے چکا ہے چاغی ایک پر امن ضلع رہا ہے اور یہاں کے لوگ بھی پر امن رہے ہیں کسی منصوبہ بندی کے تحت ضلع کی امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انھوں نے مزید بتایا ہمارا ہڑتال کا مقصد ضلع چاغی کے لوگوں کو آسانی کے ساتھ روزگار دینا چایئے چاغی چونکہ ایک سرحدی ضلع ہے یہاں کے لوگوں کا تمام ذریعہ معاش بارڈرز کے ساتھ وابسطہ ہیں حکومت کو چایئے حفاظتی انتظامات کے تحت لوگوں کو روزگار فراہم کرنے دے ادھر تحصیل چاگئے میں بھی مکمل شٹرڈاون رہا بڑی تعداد میں شہریوں نے گزشتہ روز فورسز کی فائرنگ سے 6 زخمی ہونے والوں کے حق میں دھرنا دیئے بیٹھے تھے بعد ازہ قبائلی رہنما ملک کریم داد محمد حسنی ودیگر سے کامیاب مزکرات کے بعد احتجاج ختم کردیا ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر چاغی کمپلیکس میں چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر عباس رانا کی سربرائی میں ایک اہم اجلاس منعقد اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا ودیگر علاقے کے قبائلی عمائدین اور عسکری قیادت نے شرکت کی اجلاس میں ایم پی اے چاغی عارف محمد حسنی،سابق صوبائی وزیر سخی میر امان اللہ خان نوتیزئی، سابق مشیر میر اعجاز خان سنجرانی،حاجی عرض محمد بڑیچ ودیگر سیاسی،سماجی قبائلی عمائدین، انجمن تاجران کے عہدیداران نے شرکت کی اجلاس میں چاغی کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں زخمیوں کی صحتیابی تک مکمل فری علاج اور شہید ہونے والا ڈرائیور حمید اللہ کو معاوضہ بھی دیا جائے گا بارڈرز کے مزید معاملات پر 15 دن بعد دوبارہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا بعدازہ اعلی حکام کی سربرائی میں وفد نے دالبندین سے چاگئے گئے شہید حمید اللہ کے گھر جاکر فاتحہ خوانی کی گئی یاد رہے میڈیا کو پریس بریفنگ کے لیئے بلایا گیا مگر بریفنگ دیئے بغیر اجلاس کا اختتام کیا گیا اور اجلاس کے تفصیلات بھی میڈیا کے سامنے نہیں لائے گئے جس پر میڈیا نمائندوں نے طویل انتظار کروانے کے باوجود میڈیا موجودہ صورتحال پر آگاہ نہ کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔


