بلوچستان کا نوجوان باکسر حکومتی عدم توجہ کے باعث نان شبینہ کا محتاج

کوہلو (انتخاب نیوز) بلوچستان کا باصلاحیت نوجوان باکسر شیر باز مری نے باکسر کے میدان میں گزشتہ کئی سال سے پنجے گاڑ دئیے ہیں انہوں نے مختصر مدت میں صوبائی اور ملکی سطح پر مختلف ایونٹ میں شرکت کرکے درجنوںمیڈل جیت لئے ہیں گزشتہ 11سال سے وہ باکسنگ اور اشو کراٹے کے میدان میں نمایاں رہے ہیںتاہم حکومتی عدم توجہی اور معاشی مسائل کے باعث نان شبینہ کا محتاج بن گئے ہیں ہزار گنجی کوئٹہ میں یومیہ دیہاڑی پر کام کرتے ہیں اور دووقت کے روٹی کی حصول کےلئے گاڑیوں میں سامان لوڈ کرکے گزار بسر کرتے ہیں باکسر شیر باز مری کے مطابق وہ گزشتہ کئی سالوں سے باکسر کے میدان میں مسلسل اپنے مخالف باکسرز کو ہرانے میں کامیاب ہوئے ہیںصوبے اور ملکی سطح پر انہوں نے کئی میڈل اپنے نام کئے ہیں اور صوبے کےلئے درجنوں اعزازات جیت کر لے آیا ہوں مگر اب حکومتی عدم دلچسپی اور معاشی مسائل کے باعث دن بھر مزدوری کرنے پر مجبور ہوں کیونکہ وہ اپنے گھر کے واحد کفیل ہیں سردیوں میں کراچی اور گرمیوں میں کوئٹہ یومیہ مزدور کرکے گھر کی کفالت کرتا ہوں بدقسمتی سے ہمارے صوبے میں اسپورٹ مین کی کوئی اہمیت نہیں ہے ٹورنامنٹ جیتنے کے بعد صرف میڈل پہنائے جاتے ہیں اور مالی داد رسی نہیں ہوتی ہے اب معاشی مسائل اتنے خراب ہیں کہ میرے پاس وقت نہیں ہوتا ہے کہ میں اپنے پروفیشنل کھیل کو جاری رکھ سکوں ۔صبح مزدوری کےلئے نکلتا ہوں اور شام تکے ہارے گھر میں لوٹ جاتا ہوں ہمیں ہر دن کئی گھنٹے کی پریکٹس اور جسم کو مضبوط بنانے کےلئے اچھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے مگراب تو دوقت کی روٹی کے لالے پڑگئے ہیں کئی بار بین الاقومی سطح پر کھیلنے کا دعوت ملا ہے مگر میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں پاسپورٹ بنا سکوں اور ان ایونٹ کا حصہ بن کر ملک اور قوم کا نام روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکوں۔ صوبے میں کھیل کا محکمہ مجھے اسپورٹ کرئے اور معاشی مسائل حل کرنے کےلئے مجھے نوکری یا کوئی دوسرا ذریعہ روزگار فراہم کرئے تو میں ملکی اور بین الاقومی سطح پر ملک کا نام روشن کرسکتا ہوں انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدلقدوس بزنجو ،صوبائی وزیر کھیل و ثقافت عبدالخاق ہزارہ اور صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی مدد کی جائے تاکہ وہ اپنے باکسر کے کھیل کو جاری رکھ کر ملک و قوم کا نام روشن کرسکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں