بلوچستان میں مالی سال2020-21کے دوران اربوں روپے کی بے ضابطگیاں
کوئٹہ:بلوچستان میں مالی سال2020-21کے دوران اربوں روپے کی بے ضابطگیاں رپورٹ ترقیاتی مدمیں مختص104.645ارب روپے میں سے 98.684ارب روپے خرچ ہوئے صرف جون 2021میں 42فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ ہوا، مالی سال 2020-21کے دوران صوبائی حکومت بجٹ کا 11.31فیصد یعنی 43.763ارب روپے خرچ نہیں کرسکی، تفصیلات کے مطابق بلوچستان حکومت کے مالی سال 2020-21 کے بجٹ کا آڈٹ مکمل کرلیا گیا ہے آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2020-21کے دوران صوبائی حکومت بجٹ کا 11.31فیصد یعنی 43.763ارب روپے خرچ نہیں کرسکی جبکہ حکومت نے ترقیاتی مد میں مختص104.645ارب روپے میں سے 98.684ارب روپے خرچ کئے بجٹ کا صرف29فیصد حصہ ترقیاتی مد میں رکھا گیا تھا،بجٹ کو لیپس ہونے سے بچانے کے لئے جون 2021میں ترقیاتی بجٹ کا 42فیصد حصہ یعنی 41ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی، رپورٹ کے مطابق بجٹ میں 2ارب روپے سے زائد کی 122اسکیمات کو دیگر مد میں رکھا گیا جن پر محکمہ ورکس کے بجائے کام کمشنر اور ڈپٹی کمشنران کے ذریعے کروائے گئے رپورٹ کے مطابق پی ایس ڈی پی کے 28شعبوں میں 15شعبے ایسے تھے جن میں 1فیصد سے کم ایلوکیشن رکھی گئی پی ایس ڈی پی کی 7064اسکیمات میں سے 265اسکیمات پر کام شروع ہی نہیں کیا گیاپی ایس ڈی پی میں سب سے زیادہ بجٹ مواصلات کے شعبے کو 26فیصد سے زائد دیا گیا جبکہ ماحولیات کے شعبے میں کوئی ایک بھی روپیہ خرچ نہیں کیا گیا رپورٹ کے مطابق بجٹ کی 46ارب روپے سے زائد کی بچت کو سرینڈر نہیں کیا گیا آڈٹ کے دوران صوبے میں 13.497ارب روپے کی ریکوری کی نشاندہی کی گئی جس میں سے آڈٹ کے دوران 2.257ارب روپے سے زائد کی ریکوری گئی، آڈٹ رپورٹ کے مطابق تین مواقعوں پر 87کروڑ روپے سے زائد رقم کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا،6لاکھ روپے سے زائد کی رقم فراڈ کے ذریعے نکلوائی گئی،حکومت کو 9مواقعوں پر 62کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا،27کیسز میں 27کروڑ سے زائد رقم کی زائد ادائیگیاں کی گئیں جبکہ رپورٹ میں 22مواقعوں پر 1.8ارب روپے کی ریکوری کی نشاندہی کی گئی ہے،رپورٹ میں 1.6ارب روپے کی 49مالی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی،16کیسز میں 12ارب روپے کے غیر مجاذ اخراجات کئے گئے 14کیسز میں 1ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری کی گئی جبکہ 2ارب روپے سے زائد کے غیر کیش شدھ چیک کی واپسی نہیں ہوئی


