وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کریں گے، بلاول بھٹو زرداری

کوئٹہ(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام کو سستے علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا پیپلز پارٹی کی اولین ترجیح ہے پانچ سال بعد جب وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کادور حکومت مکمل ہوگا تو بلوچستان میں صحت کے شعبے میں واضح بہتری نظرآئے گی،بلوچستان حکومت نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے ذریعے بھرتیوں اور ٹیسٹ کا عمل شروع کیا ہے جسے سندھ میں بھی لیکر جائیں گے منفی قوتیں جو ملک اور بلوچستان کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھ سکتیں انہیں شکست ہوگی بلوچستان حکومت ایک سال میں نصیرآباد میں گھمبٹ ہسپتال کی طرز پر ہسپتال تعمیر کرکے دے۔یہ بات انہوں نے جمعہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں بلوچستان میں صحت کے شعبے میں 11اہم منصوبوں کا افتتاح کرنے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر گورنر بلوچستان شیخ جعفرخان مندوخیل،وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی،سینیٹرز ،ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ،صوبائی وزراءبھی موجود تھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بلوچستان کے پسماندہ طبقے اوردور دراز علاقوں میں عوام کی خدمت کریں گے حکومت اگر عام آدمی کو طاقتور بنائے گی تو اسے ملک کی معیشت کو طاقت ملے گی ۔انہو ں نے کہا کہ دنیا ،خطے اور ملک میں مشکلات ہیں جس سے معاشی صورتحال پیدا ہورہی ہے خدانخواستہ یہ صورتحال معاشی بحران میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کے عوام اور پسے ہوئے طبقات کیلئے صحت کا شعبہ انتہائی اہم ہے ہرایک کو زندگی میں کبھی نہ کبھی علاج کی ضرورت پڑتی ہے پیپلزپارٹی کا نظریہ ہے کہ صحت ہرایک کا بنیادی حق ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہرایک کو مفت اور معیاری علاج ملے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ صحت کے شعبے کو ترجیح دی ہے ہم یہ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں یہ نہ ہو کہ امیر کو علاج ملے اور پسماندہ طبقہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے علاج سے محروم رہے ہم عوام کو مفت اور معیاری علاج کی سہولیات انکی دہلیز پر دینے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اورانکی ٹیم کو ہدایت کی تھی کہ سندھ میں صحت کے شعبے میں جو مثبت اقدامات ہوئے ہیں انہیں بلوچستان میں بھی لایا جائے دو سال کے اندراندر وزیراعلیٰ اورانکی ٹیم نے اتنے منصوبے مکمل کئے جس پر وہ داد کے مستحق ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جو منصوبے چل رہے ہیں پانچ سال بعد جب وزیراعلیٰ سرفرازبگٹی کی مدت مکمل ہوگی اسکے ساتھ ہی یہ منصوبے بھی مکمل ہوچکے ہوں گے جس سے صحت کے شعبے میں واضح بہتر ی نظرآئے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے مجھے 20منصوبوں کا افتتاح کرنے کیلئے مدعو کیا تھالیکن میں عوام سے بار بارملنا چاتا ہوں اور جیسے اب دوسال بعد آیا ہوں آئندہ دو سال بعد نہیں آنا چاہتا تھا اس لئے 11منصوبوں کاافتتاح آج اور دیگر منصوبوں کا عید اور گلگت بلتستسان کے انتخابات کے بعد کوئٹہ کے دورے پرکروںگا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر ایمبولینس سروس اور پیپلز ائیر ایمبولینس سروس بہترین منصوبے ہیں اب بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں بھی ائیر ایمبولینس کے ذریعے مریضوں کو علاج معالجے کیلئے دیگر علاقوں میں منتقل کیا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں150بستروں پر مشتمل ٹراما سینٹر مکمل کیا گیا ہے جہاں سعودی عرب سے بھی ایک ڈاکٹر وطن واپس آئے ہیںاور لوگ بھی اسی طرح آئیں اور اپنے عوام کی خدمت کریں۔انہوں نے کہا کہ یہ ہسپتال عالمی معیار کے مطابق اور پیپرلیس ہے ۔انہوں نے کہا کہ 164بی ایچ یوز کو فعال اور انہیں ٹیلی ہیلتھ کے ذریعے منسلک کرنے سے بنیادی صحت کا ڈھانچہ مضبوط ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے 2سال میں روٹین ایمونائزیشن کو 38فیصد سے 50فیصد تک بڑھایا ہے جوکہ قابل تعریف ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میںپولیو ویکسین شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے شروع کروائی تھی اور بلوچستان حکومت نے اس کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ تھی ہم نے چائلڈ لائف فاونڈیشن کے ساتھ ملکر اس شرح کو کم کیا ہے اب بلوچستان میں بھی بچوں کی صحت کے شعبے میں چائلڈ لائف کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم بچوں اور نوجوانوں کی صحت کو ترجیح دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقارعلی فا¶نڈیشن کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت باچا خان ہسپتال کی فعالیت اہم اقدام ہے ہم بلوچستان میں بھی ایس آئی یو ٹی کو لائیں گے جبکہ پنجاب میں بھی ایس آئی یو ٹی سندھ کے اشتراک سے ہسپتالوں میں سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ بلوچستان میں صحت کے شعبے کو ڈیجٹلائزکرنے سے نظام میں شفافیت اور بہتری آئے گی اپنے آئندہ دورہ کوئٹہ کے موقع پر بی آئی سی بی ڈی کا افتتاح کروں گا وزیراعلیٰ نے اے آئی کا استعمال کرکے ٹیسٹ اور بھرتیاں کی ہیں ہم بلوچستان حکومت کی مدد سے سندھ میں بھی اس نظام کو لائیں گے تاکہ شفافیت کو معیاربنایا جاسکے ۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ابھی بھی سب اچھا نہیں ہے بہت سی مشکلات ہیں جن کا حکومت ،ریاست اور سیاسی جماعتیں ملکرسامنا کررہی ہیں اگر محنت جاری رہی تو منفی قوتیںجو بلوچستان اورملک کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتیں انہیں شکست ہوگی ۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو ایک سال کی مہلت دے رہا ہوں کہ وہ گھمبٹ کی طرز پر نصیرآباد میں ہسپتال مکمل کرکے دکھائیں تاکہ صحت کی سہولیات صرف کوئٹہ نہیں بلکہ دوردراز علاقوں تک پہنچائی جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے عوام کی قوت خرید کم کردی ہے ہماری کوشش ہے کہ عوام کے علاج کا خرچ بچاکر انہیں سہولیات مہیا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں