عمران خان کی بگڑتی صحت اور آئینی ترامیم کے خلاف پشتونخوا میپ کا کل ملک گیر احتجاج کا اعلان
کوئٹہ(یو این اے )پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ ایک اہم پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے محبوب چیئرمین، تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت ایک اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں (22) مئی (2026) بروز جمعہ کو ملک گیر احتجاج کے طور پر تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں پرامن احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ پارٹی بیان میں صوبہ جنوبی پشتونخوا، خیبر پشتونخوا، سندھ اور پنجاب کی تنظیمی اکائیوں کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تحریک تحفظِ آئین پاکستان میں شامل تمام اتحادی جماعتوں کے ہمراہ اپنے اپنے صوبوں کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاجی مظاہروں کے انعقاد کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ اس سلسلے میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں مرکزی احتجاجی مظاہرہ شام ٹھیک چار بجے پریس کلب کے سامنے منعقد کیا جائے گا۔بیان میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک کے سب سے مقبول رہنما عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش ناک صورتحال نے نہ صرف پی ٹی آئی کارکنوں بلکہ ملک کے کروڑوں عوام کو شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حکومت مسلسل انتقامی کارروائی کے تحت ان کے علاج معالجے سے متعلق ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے؛ پارٹی پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان کے خاندان، وکلا اور ذاتی معالجین کی خواہش کے مطابق انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد منتقل کر کے علاج کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔ پریس ریلیز میں موجودہ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملک پر مسلط فارم (47) کی حکومت نے آئین کو پامال کر کے عدلیہ کے پر کاٹ دیے ہیں اور میڈیا کی آزادی کو عملا سلب کر لیا ہے۔رہنماں نے مزید کہا کہ عوام اس وقت بجلی، گیس، پینے کے صاف پانی، تعلیم، صحت اور روزگار جیسی بنیادی ترین سہولتوں سے محروم ہیں، جبکہ پشتون بلوچ دو قومی صوبے (بلوچستان) میں امن و امان کی ابتر صورتحال، بارڈر ٹریڈ پر بندش اور تجارت کے خاتمے جیسے عوام دشمن فیصلوں نے بے روزگاری میں ہولناک اضافہ کر دیا ہے۔ مہنگائی کی بے قابو لہر نے سفید پوش خاندانوں کو نانِ شبینہ کا محتاج بنا دیا ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ حکمران ویں (26th) اور ویں (27th) آئینی ترمیم کے بعد اب ویں (28th) آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ اور آئین کے خلاف نئی غیر جمہوری سازشیں کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف صوبے میں مقامی قبائل کی جدی پشتی زمینوں پر سیٹلمنٹ کے نام پر غیر قانونی قبضے اور ناروا انتقالات کا سلسلہ جاری ہے۔ پشتونخوا میپ نے تمام جمہوریت پسند، قوم دوست اور وطن دوست سیاسی قوتوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محمود خان اچکزئی کی قیادت میں آئین کی بالادستی کے لیے کل (22) مئی کے ملک گیر احتجاجی مظاہروں میں اپنی بھرپور اور تاریخی شرکت کو یقینی بنائیں۔


