طالبان حکومت کو تسلیم اور دوحہ معا ہددہ پر عمل کیا جائے،ملا ہیبت اللہ
کابل:افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کابل میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے۔ بیرونی دنیا کے ساتھ سفارتی تعلقات سے افغان عوام کی مشکلات کے حل میں مدد ملے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عید الفطر کے کی مناسبت سے اپنے ایک تحریری پیغام میں جمعہ کے روزجاری ایک بیان میں کہا کہ آج کے دور میں دنیا سمٹ کر ایک چھوٹا سا گاﺅں بن چکی ہے اور طالبان کی حکومت کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام سے افغان عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ امارت اسلامیہ اپنے تمام پڑوسی ، خطے کے ممالک نیز دنیا کے ساتھ بہترین اور مثبت تعلقات چاہتی ہے،ہم اجازت نہیں دیتے کہ افغانستان سے کسی اور ملک کو خطرہ پیش ہو، دوسرے ممالک سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بہتر، مثبت اور باہمی احترام پر مبنی سلوک کریں۔ قطر مین 2020 میں امریکا کے ساتھ غیر ملکی افواج کے انخلا سے متعلق انہوں نے کہا کہامارت اسلامیہ اور امریکہ کے درمیان دوحہ معاہدہ موجود ہے،اس معاہدے کی رو سے افغانستان کے داخلی امور میں امریکہ دخل اندازی نہیں کرے گی، اب بھی ہم اصرار کررہے ہیں کہ دوحہ معاہدہ پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے اور دباو¿ کے بجائے تعاون کے جذبے کو آگے بڑھایا جائے، امارت اسلامیہ نے اپنے وعدے عملی کیے اور کررہی ہے۔خواتین سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں خواتین اور مردوں کے تمام شرعی حقوق کا احترام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اس کےلیے پابند سمجھتے ہیں،اس بارے میں کوئی تشویش نہ کریں اور اس انسانی و عاطفی موضوع کو سیاسی اہداف کے لیے ایک وسیلہ کے طور پر استعمال نہ کریں،لڑکیوں کی تعلیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علیم و آموزش کے مزید بہتری کے لیے امارت اسلامیہ مصروف عمل ہے۔ دینی و عصری علوم کے لیے ملک کے بہت سے مرکزی اور دورافتادہ علاقوں میں نئے اسکولز اور مدارس قائم اور تعلیم کے حصول کے لیے پرامن ماحول فراہم کیا ہے۔اساتذہ اور مدرسین کو بروقت تنخواہیں ملتی ہیں اور ان کے لیے تعلیمی نصاب مہیا کیا ہے۔اس راہ میں مزید قدم اٹھانے کے لیے امارت اسلامیہ پابند ہے،کیونکہ تعلیم ہمارے ہموطنوں کے لیے دنیا و آخرت کے نجات کا ذریعہ اور ترقی و پیشرفت کی بنیادی راہ حل ہے۔آ زادی اظہار رائے کے بارے میں طالبان سربراہ نے کہا کہ اظہاری ازادی کے لیے بھی طالبان قومی مفادات اور اسلامی اقدار کی روشنی میں امارت اسلامیہ پابند ہے اور مثبت و سالم نشرات کی حمایت کرتی ہے۔ ہمارے تمام نشراتی ادارے چاہے امارت اسلامیہ یا آزاد (نجی) ہو، انہیں اپنی قوم کے مفادات کو مدنظر رکھنے چاہیے اوراپنے اسلامی عقائد اور جائز روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے مثبت نشرات کریں۔شیخ ھبتہ اللہ نے کہا کہ امارت اسلامیہ نے اپنے تمام مخالفین کے لیے عام معافی کا اعلان کیا،جسے عملی طور پر نافذ کیا گیا، معافی کے مقتضا کی بنیاد پر ایک بار پھر ان تمام افغانوں کو دعوت دیتا ہوں ، جن کا اب تک مخالفت کا ارادہ ہے،آئیے اب اپنے گھر میں بھائیوں کی طرح پرامن زندگی گزاریں۔ انہوں نے کہ کہ افغانستان کے پاس اب مزید سازشیں عملی کرنے کی قوت نہیں ہے، ہمیں اپنی قوم پر ترس کرنا چاہیے، کسی مصیبت اور فتنے کا دروازہ نہیں کھولنا چاہیے، اگر خدانخواستہ کوئی عام معافی کے حکم سے سرکشی اور تمرد کریں اور ملک میں جنگ شروع کرنے کی کوشش کریں، تواسے افغان ملت کے دوٹوک اور شدید ترین ردعمل کا سامنا ہوگا اور افغان قوم مزید کسی کو اجازت نہیں دے گی کہ بیرونی اشارے پر ملک کے امن و امان کو خراب کردے۔طالبان کے لیڈر نے کہاکہ موجودہ حکومت کو تسلیم کرنے کا عمل اس لیے پہلے مکمل کیا جانا چاہیے کہ پھر ہم سفارتی ضابطوں اور اصولوں کے مطابق اپنے مسائل کے باقاعدہ حل کے لیے نتیجہ خیز کوششیں کر سکیں۔


