ہما رے مسئلہ کو حل نہ ہونے پرصوبہ بھر میں احتجاج کر نے پر مجبور ہوں گے،عبدالرحیم کاکڑ
کوئٹہ: مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ ،حضرت علی اچکزئی ،سید عبدالقیوم آغا ،میر یاسین مینگل ،سعداللہ اچکزئی ،حاجی ہاشم کاکڑ ،عبدالخالق آغا ،حاجی ظفر کاکڑ ،حاجی حمداللہ ترین ،دوست محمد آغا ،حاجی خدائیدوست ،خرم اختر ،حاجی ودان علی کاکڑ ،عطامحمد کاکڑ ،ظہور آغا ،حاجی محمد یونس ،نقیب کاکڑ ،عزیز بازئی، قاہر ترین ،عنایت دورانی ،شکور خلیجی ،عبدالعلی دمڑ ،احسان کاکڑ ،نقیب اللہ کاکڑ ،نصیر خان ترین، سید محمد اسحاق زئی، خیال محمد نعمت ودیگر نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ سے دیگر اضلاع کو اشیاءکی ترسیل ٹرکوں کے ذریعے ہوتی ہے اور گزشتہ کئی روز سے کوئٹہ سے پنجگور جانے اور آنے والےٹرکوں کو لکپاس ودٹھ نوتال کولپور کے علاقے کے مقام پر فورسز کی جانب سے اس وجہ سے روکھا گیا کہ یہ مال افغانستان سمگلنگ ہورہا ہے جبکہ پنجگور کے ساتھ افغانستان کے باڈر کی کوئی حدود بھی نہیں ہے اور انہیں یہ کہا گیا ہے کہ پنجگور اور کوئٹہ کے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے آپ ہمیں کلیرنس لائے اور اس طرح کے واقعات پورے بلوچستان کو جانے والے اشیاء کے ٹرکوں کیساتھ ہو رہا ہے اشیاءخوردونوش کی سمگلنگ کی روک تھام کریں اور باڈروں پر سخت نگرانی رکھیں اور جو سامان اندرون صوبہ جاتا ہے انہیں روکھنا بلا جواز ہے اور اس طرح کے واقعات اور اقدامات سے تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہاہے اور کئی دن ٹرکوں کو روکے جانے سے ان میں موجود مال خراب ہوجاتا ہے ڈرائیور حضرات کلینڈر کہیں دنوں سے اس گرمیوں میں سارا دن دوپ میں کھڑے ہے اور ہمیں کہا جا رہا ہے کہ صوبائی حکومت اور چیف سیکرٹری اور ایف سی حکام سے رابطہ کریں جب تک ان کی طرف سے کلیئر نہیں ہوگا اس ٹائم تک ہم کچھ نہیں کر سکتے جب اشیاءخوردونوش کی ترسیل رکھ جاتی ہے تو صوبے بھر میں آٹے چینی کی قلت پیدا ہو جاتی ہے صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کو سنجیدگی سے اس مسئلہ کو حل کرنا چاہیے وگرنہ تاجر برادری صوبہ بھر میں احتجاج کا اعلان کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت پر ہوگی۔


