اسرائیلی فوج کا نمازیوں پر تشدد، 4 فلسطینی گرفتار، فلسطینی نوجوانوں کا جوابی پتھراؤ
بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) اتوار کی صبح صہیونی فوج نے مسجد الاقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بول دیا اور القبلی کی جائے نماز کو گھیرے میں لے کر اس کے ایک دروازے کو زنجیروں سے بند کردیا۔ بعد ازاں یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد نے اسرائیلی پولیس اور فوج کی فول پروف سیکورٹی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا۔ مقامی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے اتوار کو علی الصبح مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دھاوا بولا اور جگہ جگہ پھیل گئے۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے قبلہ اول کے ’مسجد قبلی‘ میں جنازگاہ کے دروازے آہنی زنجیروں سے بند کردیے۔ اسرائیلی فوج کے گھیراؤ سے قبل فلسطینیوں کی بڑی تعداد قبلہ اول میں موجود تھی۔ انہوں نے اسرائیلی فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ فلسطینی نمازیوں کے’اللہ اکبر‘ کے فلک شگاف نعروں سے قبلہ اول کی فضا گونج اٹھی۔ اس دوران فلسطینی نوجوانوں نے قابض فوج پر سنگ باری کی جب کہ دوسری طرف سے قابض فوجیوں نے فلسطینی نمازیوں کو قبلہ اول سے باہر نکالنے کے لیے ان پر طاقت کا استعمال کیا اور ان پر صوبے بم برسائے۔ اسرائیلی افواج کی مخالفت میں نمازیوں کے ایک گروپ نے مسجد کے صحنوں میں اجتماعی نماز ادا کرنا شروع کردی۔


