نوشکی بلدیاتی انتخابات، چیئرمین شپ کیلئے سیاسی اور آزاد امیدواروں میں جوڑ توڑ

نوشکی (انتخاب نیوز) بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں مخصوص نشست یونین کونسل میونسپل کمیٹی اور ضلع چیئرمین شپ کے لیئے سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی جانب سے سیاسی سرگرمیوں اور جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے بلوچستان نیشنل پارٹی جمعیت علما اسلام اور نیشنل پارٹی ضلع و میونسپل کمیٹی کے نشستوں پر مشترکہ امیدوار لاکر کامیابی حاصل کرنے کے خواہاں، لیکن روادری و اعتماد کی فقدان کے باعث جے یو آئی اور بی این پی کے درمیان ضلع و میونسپل کمیٹی چیئرمین شپ پر اتفاق نہیں ہورہا۔ ذرائع کے مطابق بی این پی ضلع چیئرمین و میونسپل کمیٹی چیئرمین شپ دونوں عہدوں کو اپنے پاس جبکہ ضلع و میونسپل کمیٹی کے وائس چیئرمین کے عہدوں کو جمعیت علما اسلام کو دینا چاہتی ہے مگر جے یو آئی اس تجویز سے اتفاق نہیں کرتی جے یو آئی ضلع چیئرمین شپ پر اپنا امیدوار لانا اور میونسپل کمیٹی کی چیئرمین شپ کو بی این پی کو دینا چاہتی ہے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان ابتدائی مزاکرات کے بعد ڈیڈ لاک پیدا ہو چکی ہے اور دونوں سیاسی جماعتیں عوامی پینل کے سربراہ حاجی حیات خان جمالدینی سے الگ الگ روابط شروع کر دئیے ہیں نیشنل پارٹی میونسپل کمیٹی کے اپنے ایک نشست پر خواہشمند ہے کہ جے یو آئی اور بی این پی آپس میں اتفاق کریں اور مشترکہ امیدوار لائیں مگر نیشنل پارٹی کی خواہش پورا ہوتا نظر نہیں آرہا دوسری جانب الفتح پینل بھی میدان میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیئے لابنگ کر رہی ہے جس کے پاس میونسپل کمیٹی کے تین کونسلران ہے جو میونسپل کمیٹی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں آزاد حیثیت سے جیتے والے کونسلران کو ہر کوئی اپنے کھاتے میں شمار کرتی ہے جس کی وجہ سے کسی جماعت اتحاد یا پینل کی اکثریت واضع نہیں ہو رہا ہے صرف ایک آزاد کونسلر علی احمد سمالانی نے جینے کے فورا بعد حاجی میر غلام دستگیر بادینی کی توسط سے جے یو آئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے باقی دس آزاد کونسلران نے ابھی کسی کی حمایت نہیں کی جبکہ ایک کونسلر میر یاسر جمالدینی کا تعلق عوامی پینل سے ہے میونسپل کمیٹی کی طرح ضلع کونسل کا صورتحال بھی پیچیدہ اور غیر یقینی ہے جہاں بی این پی اور جے یو آئی اپنی اپنی عددی برتری کا متضاد دعوی کر رہے ہیں ضلع کونسل کے لیئے سولہ یونین کونسل چیئرمین ووٹ ڈال کر چیئرمین منتخب کرینگے یونین کونسل چیئرمین کے نشست پر بھی جے یو آئی اور بی این پی ایک دوسرے کے خلاف سرتوڈ کوششیں کر رہے ہیں میونسپل کمیٹی اور ڈسٹرکٹ کونسل چیئرمین کے عہدوں کے حصول کے لیئے کروڈوں روپے خرچ کرکے خرید و فروخت کا امکان ہے اگر جے یو آئی اور بی این پی نے نیشنل پارٹی کے ساتھ ملکر اتحاد نہیں کیا تو سب ایک دوسرے کے خلاف بدترین ہارس ٹریڈنگ کرتے ہوئے کروڈوں روپے خرچ کرینگے جس سے نہ صرف الیکشن کا دوسرا مرحلہ غیر شفاف و غیر جمہوری ہوگا بلکہ سیاست بالخصوص عوامی رائے اور ووٹ کی حرمت پامال ہوگی اور کروڈوں روپے خرچ کرکے چیئرمین منتخب ہونے والا شخص کسی صورت عوام و علاقے کی خدمت کو اپنا مقصد نہیں بنا سکے گا اور عوام و علاقے کا سخت نقصان ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں