واشک میں مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ دی، اشیاءخوردونوش دسترس سے باہر
واشک (نامہ نگار) ملک کے دیگر شہروں کی طرح واشک میں بھی مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے، مہنگائی کے باعث لوگ پریشان ہیں، روزمرہ کی اشیاءخورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ واشک میں ایرانی پیٹرول، ڈیزل سمیت چھوٹے اور بڑے کا گوشت خریداروں کی قوت خرید سے باہر ہوگیا ہے۔ سبزی، پھل مزدور و دیہاڑی طبقے کی دسترس سے باہر ہوگئی ہے۔ مرغی گوشت سات سو روپے کلو تک پہنچ گیا جبکہ مہنگائی میں ٹرانسپورٹروں نے غریب عوام کو نہیں بخشا، واشک سے خاران و دیگر علاقوں کے لیے نکلنے والی مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں من مانا اضافہ کردیا گیا ہے۔ خاران واشک سے ایک سو ستر کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جس کے روٹ پر چلنے والی گاڑیوں میں مسافر اور بھیڑ بکریوں کو ایک ساتھ سوار کیا جاتا ہے، مسافر گاڑیوں میں ایئرکنڈیشن کی سہولت نہیں، تاہم خاران ٹو واشک کرایہ ساڑھے سات سو مقرر کردیا گیا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ واشک کے سماجی حلقوں نے حکومت وقت کے ذمے داراں سے مطالبہ کی ہے کہ واشک میں ہوشربا مہنگائی اور ٹرانسپورٹروں کی من مانے کرایہ وصول کرنے کے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔


