نئے سینٹری فیوجز سے یورینیم پمپ کرنا شروع کردی گئی ہے،ایران

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی طرف سے منظور کیے گئے فیصلے کے رد عمل میں ایرانی جوہری توانائی کی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ ایران نے نئے سینٹری فیوجز نصب کر کے ان میں یورینیم گیس ڈالنا شروع کر دی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے رویے کے جواب میں مزید اقدامات کا اعلان کریں گے۔ محمد سلامی کا کہنا تھا کہ آئی اے ای اے کا رویہ سیاسی اور غیرقانونی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے مخصوص شرائط کی بنیاد پر آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو قبول کریں گے،یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے بتایا کہ ایران ایجنسی سے تعلق رکھنے والے 27 مانیٹرنگ کیمرے کو اپنی جوہری تنصیبات سے الگ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ایجنسی نے اشارہ کیا کہ اس کے انسپکٹرز نے آج اس سے تعلق رکھنے والے کیمروں اور دیگر نگرانی کے آلات کو ہٹانے کا عمل شروع کیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 9 جون 2022 کو ایجنسی کے معائنہ کاروں نے تہران ریسرچ سینٹر اور اصفہان میں سینٹری فیوج کے پرزے بنانے کے لیے دو ورکشاپس سے اس کے نگرانی والے کیمرے ہٹا دیے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان سے جمع کیے گئے کیمروں اور ڈیٹا کو عالمی توانائی ایجنسی کے علم کے تحت محفوظ کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں