بھارت، جھڑپوں میں شدت، سرکاری املاک نذر آتش، سیکڑوں افراد گرفتار
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی فوج میں بھرتی کے نئے نظام کیخلاف مظاہروں میں اس وقت شدت آگئی جب مشرقی ریاست بہار میں مظاہرین نے ایک ریلوے اسٹیشن میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور دفاتر میں توڑ پھوڑ کی۔ ہزاروں نوجوانوں نے ٹرین کی بوگیوں پر حملہ کیا، ٹائر جلائے اور اسٹیشن پر اہلکاروں کے ساتھ ان کی جھڑپ بھی ہوئی۔ بہار میں امن و امان کی نگرانی کرنے والے ایک سینئر پولیس اہلکار سنجے سنگھ نے بتایا کہ کم از کم 12 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا اور لگ بھگ 4 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ سنجے سنگھ نے بتایا ’تقریباً 2 ہزار سے ڈھائی ہزار لوگ مسوڑھی ریلوے اسٹیشن میں داخل ہوئے اور فورسز پر حملہ کیا‘۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ’اگنی پتھ‘ نامی نئے نظام کا مقصد 4 سالہ معاہدے پر فوج میں بھرتیاں کرنا ہے تاکہ فوج میں اوسط عمر کو کم کرنے کے ساتھ پنشن کے اخراجات بھی کم کیے جا سکیں۔ بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش میں پولیس نے کم از کم 250 افراد کو گرفتار کیا، کچھ مظاہرین نے پولیس پر ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا، رواں ہفتے مظاہروں کے درمیان ایک شخص کی ہلاکت بھی ہوئی۔ مظاہروں کے پیش نظر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے نئی دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات کی، انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ نئے نظام کے تحت بھرتیوں کے لیے درخواست دیں۔ عوامی ردعمل پر قابو پانے کے لیے بھارتی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نیم فوجی دستوں اور آسام رائفلز (بھارتی فوج کی ایک یونٹ) میں 10 فیصد اسامیاں ان لوگوں کے لیے مختص رکھی جائیں گی جو 4 سال کی مقررہ مدت کے بعد فوج سے باہر ہوجائیں گے۔


