بلوچستان میں ڈیمز پروجیکٹ کے تحت 23 ڈیموں کی تعمیر کیلئے رقم مختص

کوئٹہ (انتخاب نیوز) زمیندار ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے وفاقی وزیر مولاناعبدالواسع کی کوششوں سے بلوچستان کے 100ڈیمز پروجیکٹ کے23ڈیمز کیلئے مختص رقم کودوبارہ نئے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ 100ڈیمز پروجیکٹ میں رہ جانے والے ڈیمز کو پی ایس ڈی پی سے نکالنا بلوچستان کے ساتھ ناانصافی ہے، وفاقی وزیر مولاناعبدالواسع کی کوششوں سے اب یہ منصوبہ دوبارہ پی ایس ڈی پی کا حصہ بن گیاہے ان ڈیمز کی تعمیر سے بلوچستان میں پانی کی زیر زمین سطح پر مثبت اثرات مرتب ہونگے جس سے زراعت کا شعبہ بہتری کی جانب گامزن ہوگا۔ان خیالات کااظہار زمیندار ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری حاجی عبدالرحمن بازئی،وائس چیئرمین حاجی ولی محمدرئیسانی،حاجی نوراحمدبلوچ، حاجی عبدالجبار کاکڑ، سید عبدالقہار آغا، کاظم خان اچکزئی،عبیداللہ پانیزئی،حاجی شیر علی مشوانی،حاجی عزیز سرپراہ،عبداللہ جان میرزئی،حاجی محمدافضل بنگلزئی،صدیق اللہ آغا، عزیز مغل،سفر خان اور دیگر نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت کے 100ڈیمز پروجیکٹ میں 23ڈیمز کی لاگت کو پلاننگ کمیشن کی جانب سے نئے پی ایس ڈی پی سے نکال لیاگیاتھا جس کے بعد وفاقی وزیر تعمیرات مولانا عبدالواسع نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے ملاقات کی اور 23ڈیمز کی کل لاگت 13ارب روپے کو واپس نئے پی ایس ڈی پی میں شامل کرادیاہے ڈیمز کی تعمیر کا ٹینڈر ہوگیاہے اور بہت جلد ان 23ڈیمز پر بلوچستان میں کام کاآغاز ہوگا یہ ڈیمز مشرف دور میں منظور ہوئے تھے جن میں 68پہلے ہی مکمل ہوچکے تھے جبکہ بقایا جو رہ گئے تھے اس حوالے سے بلوچستان کے ساتھ ناانصافی کی گئی لیکن وفاقی وزیر مولاناعبدالواسع کی کوششوں سے اب یہ منصوبہ دوبارہ پی ایس ڈی پی کا حصہ بن گیاہے ان ڈیمز کی تعمیر سے بلوچستان میں پانی کی زیر زمین سطح پر مثبت اثرات مرتب ہونگے جس سے زراعت کا شعبہ بہتری کی جانب گامزن ہوگا۔ ڈیمز کی تعمیر سے بارش کے پانی کو جمع کرکے ہی زیر زمین پانی کو فائدہ پہنچایاجاسکتاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں