لاپتہ افراد کے بارے میں قائم کمیٹی متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرے ، نصراللہ بلوچ
آج آپ لوگوں کو تکلیف دینے کا مقصد آپ لوگوں کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طروف مبذول کرانا ہے جیساکہ آپ لوگوں کے علم میں ہے کہ وفاقی سطح پر لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی ہے جس کے تین میٹینگز ہوئے ہیں جس میں مختلف تنظیموں کے نمائندوں کو مدعو کرکے انکے تجاویز کو سنا گیاہے لیکن کمیٹی نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کو میٹینگز میں مدعو کیاہے اور نہ ہی جبری گمشدگیوں کے حوالے سے ہماری پوائنٹ آف ویو لیاگیا ہے ہم سمجھتے ہے کہ کمیٹی کی یہ رویہ غیر جعموری عمل اور باعث تشویش ہےآپ لوگوں کے علم میں ہے کہ جبری گمشدگیوں سے سب سے زیادہ متاثر بلوچستان ہے اور بلوچستان سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جبری طور پر لاپتہ ہے اور تنظیم انکی نمائندگی کررہا ہےوائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک طویل جد و جہد ہے تنظیم لاپتہ افراد کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد تک دنیا کی طویل ترین لانگ مارچ کیا ہے اور تنظیم کے قائم احتجاجی کیمپ کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے آج 4700 دن مکمل ہوگئے ہیں یعنی تنظیم کی احتجاجی کیمپ 13 سالوں سے مسلسل جاری ہے اسکے علاوہ تنظیم نے مختلف صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے ساتھ ملاقاتوں میں پاکستان بھر سے لاپتہ ہونے والے افراد کے مسئلے کو بہترین انداز میں پیش کرتے آرہا ہے اور ساتھ میں لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائی گئی کمیشن اور اعلی عدلیہ سمیت انصاف کے لیے بنائے گئے دیگر اداروں میں نمائندگی کررہا ہے اسلیے وفاقی سطح پر لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کا تنظیم کو نظر انداز کرنا ناانصافی اور بلوچستان سے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوگا1_ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کو پارلیمانی کمیٹی کے میٹینگز میں مدعو کرنے کے ساتھ تنظیم کے تجاویز کو سنا جائے۔2_کمیٹی چاروں صوبوں کا دورہ کرے اور لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے ملاقاتیں کرکے انکے کرب و اذیت اور مشکلات کو نکے زبانی سنے ۔3_ پارلیمانی کمیٹی کو اس چیز کا پابند ہونا چاہیے کہ وہ لاپتہ افراد کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز کا موقف سنے اور پارلیمانی کمیٹی جو ہتمی تجاویز مراتب کرے ان پر بھی تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کے بعد وہ تجاویز حکومت کو فراہم کرے۔


