حکومت سیلاب متاثرین کی فوری امداد کرکے مزید نقصانات سے بچائے، سردار اسد مینگل

وڈھ، کوئٹہ (انتخاب نیوز) بی این پی کے رہنما سردار اسد جان مینگل نے کہاہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلوں سے وڈھ،آڑنجی، سارونہ کے علاقے میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصانات ہوئے ہیں وفاقی اور صوبائی حکومتیں صرف زبانی جمع خرچ کی بجائے متاثرین کی عملی طور پر امدادکو یقینی بنائیں تاکہ مزید کوئی انسانی المیہ جنم لینے سے بچا جاسکے۔ یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سردار اسد جان مینگل نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے وڈھ کے علاقوں آڑینجی، سارونہ میں 7 افراد جان بحق جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جبکہ آڑنجی،سارونہ اور شاہ نورانی میں 200سے زائدمکانات گر گئے ہیں اور لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسکے علاوہ آڑینجی کے علاقوں ہنامی بینٹ علو بینٹ آڑینجی باء کھوچو شور لکی سیلوڈن کلی سیف اللہ ملا چاکر کی بلال کشاری مسجد،براہمزئی کھوروی بوہرماس خزینی براہمزئی بیکاکی شورلکی دورء گوٹھ جنگی خان گوٹھ ہینار سومار خلق حاجی حیات مینگل کلی حبیب اللہ ابابکی روستم سائیڈ کانجوی مخ ماس کشاری سونارو آڑینجی مسجد زانبری خیسونا خل بکتر سارونہ کلغلو شاہ نورانی کراڑو خلق محمد عمر کونارو پھشی کپر خلق جلالی کپر خلق وڈیرہ علی اکبر دراکھالہ بزنجوی کلی سرمستانی میں بھی بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ تباہ کن بارشوں سے پورالی ندی میں سیلابی ریلوں سے مخ ماس کشاری بینٹ کھوروی سفرنا باء روگی بھیباری ہنامی بینٹ علو بینٹ آڑینجی باء بریڑی کوچھو سوناک خزینی براہمزئی درجنوں زرعی بندات کو مکمل طور بہاکر ختم کردیا اور بچاو بند سمیت 300 سے زاِئد ایکٹرز پر مشتمل زرعی زمین سیلابی پانی کی نظر ہوچکے ہے ان بندات میں زمینداروں کی کھڑی فیصلں کپاس،مرچ،ٹماٹر، بھنڈی کی فصلیں تباہ اور گندم سیلابی پانی کی نظر ہوگئی ہے اور کئی ٹیوب ویلز کے سولر پینلز بھی تباہ ہوگے ہیں ان علاقوں میں ٹک پلی پاس شم براہمزئی دراکھالہ وہیر شم رمندانزئی اورناچ شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ وڈھ،آڑنجی،سارونہ اوردیگر بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں تاحال کوئی امدادی ٹیمیں نہیں پہنچی ہیں اور متاثرین شدید بارش میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ سرداراسد جان مینگل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صرف زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی طور پر امداد کویقینی بنائیں اور متاثرین کوخیمے،راشن اوردیگرسازو سامان فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں