بلوچستان میں سیلاب سے درجنوں دیہات کا نام و نشان مٹ گیا، بی این پی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع، املاک، زرعی زمینوں کے نقصانات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ مون سون کی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے بلوچستان بھر میں تباہی مچا دی ہے۔ بلوچستان کے 80 فیصد حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، روز مرہ معمول زندگی متاثر، اب بھی درجنوں بچے اور بزرگ سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کی وجہ سے لاپتہ ہیں، ہزاروں گھر منہدم ہوچکے ہیں، عوام آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، درجنوں دیہات کا نام و نشان مٹ چکا ہے، سڑکیں مکمل تباہ اور درجنوں ڈیمز بھی ٹوٹ چکے ہیں، سیلابی ریلوں کی وجہ سے ہزاروں کلو میٹر سڑکیں تباہ یا خستہ حال ہوچکی ہیں، تیار فصلیں بھی ریلوں کی نظر ہوچکی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان اس وقت انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے، انتظامیہ کے پاس کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر کرنے کو کچھ بھی نہیں، حالیہ سیلابی ریلوں میں انتظامیہ کی کوتاہیوں کی وجہ سے بھی نقصانات ہوئے، سیلاب سے متاثرہ عوام کو ریلیف نہیں مل رہا، عوام اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں بلوچستان کے عوام کے معمولات زندگی کی بحالی کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کریں، سیلابی ریلوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ بیان میں عالمی امدادی تنظیموں اور عالمی اداروں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ موجودہ صورتحال میں وہ بھی بلوچستان کے عوام کے معمولات زندگی کی بحالی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ مخیر حضرات سے بھی ایپل کی گئی کہ وہ بھی آسمان تلے پڑے بے یار و مددگار عوام کی مدد کریں۔ بیان میں اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سیلاب سے جو جانی ومالی نقصانات ہوئے ان کی خبریں تک میڈیا میں نہیں دکھائی گئیں جو کہ باعث ندامت ہے۔ بیان میں وفاقی حکومت سے بھی کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے عوام کے نقصانات کے ازالے کیلئے اقدامات کا اعلان کرے تاکہ عوام میں پائی جانے والی تشویش میں کچھ کمی آسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں