وہ ترقی قبول نہیں جس سے بلوچ قومی بقا کو خطرہ ہو، منظم جدوجہد کی ضرورت ہے، ڈاکٹر مالک
پسنی (آن لائن)نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا ہے کہ ملک کو حالیہ مشکلات سے نکالنے کا حل صرف الیکشن ہے انہوں نے کہا ملک کو ایک بڑے طوفان کا سامنا ہے سیاسی،معاشی اور سماجی مشکلات کا حل ضروری ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پسنی میں شمولیتی پروگرام سے خطاب کے دوران کیا ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ کو اب منظم جدوجہد کی ضرورت ہے اور بلوچ قومی تحریک کا بنیادی مقصد بلوچ قومی تشخص کی تحفظ،ساحل اور وسائل کی تحفظ ہے اور نیشنل پارٹی اپنے قومی کاز سے دغابازی کھبی بھی نہیں کرسکتا انہوں نے کہا کہ قومی پارٹی وقت کی ضرورت ہے، اسٹبلشمنٹ نے راتوں رات پارٹیاں بناکر ہر ادوار میں قوم پرست پارٹیوں کے سامنے رکاوٹ پیدا کر دیں اور قوم پرستی کی شکل میں بی اے پی جیسے اسٹیبلشمنٹ کے بنائے گئے پارٹیوں کو ابھار کر راستے میں حائل کیا گیا لیکن نیشنل پارٹی ان قووتوں کے خلاف ہر وقت کمر بستہ رہا انہوں نے کہا کہ ملک معاشی، سماجی مشکلات سے دوچار ہے اور جنرل الیکشن وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ گوادر کو منتخب نمائندوں نے کوڑیوں کے دام بیچ دیا ہے اگر تبدیلی نہیں لائی گئی تو گوادر میں نہ ماہیگیری کے شعبے کو ترقی ملے گی اور نہ ہی دیگر شعبے کو انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں ہمارا ایک منشور ہوگا جس میں امن و امان، صحت اور تعلیم کو اپنے منشور کا محور بنایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ آزمائے ہوئے لوگوں کو اب عوام پہچان چکے ہیں اور انشا اللہ آئندہ الیکشن میں نیشنل پارٹی کلین سوئپ کرے گی انہوں نے کہا کہ اور ہم نے بلوچ کاز کے ساتھ کبھی بھی بے ایمانی اور دغابازی نہیں کی ہے اور ہمیں وہ ترقی ہر گز قبول نہیں جس سے بلوچ قوم کی بقا کو خطرہ ہو خواہ وہ ریکوڈک ہو یا سی پیک انہوں نے کہا بلوچ سر زمین وسائل سے مالامال ہے اور بحر بلوچ ایک بڑا سرمایہ ہے جبکہ ٹرالر مافیا منتخب نمائندوں کے ساتھ مل کر اس قومی سرمایہ کو تاراج کر رہا ہے جس سے غریب ماہی گیروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اور آج ماہیگیر نان شبینہ کے محتاج ہیں انہوں نے کہا کہ آج اگر گوادر کو ایک قابل نمائندہ میسر ہوتا تو عوام بنیادی سہولیات سے محروم نہیں ہوتے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں تربت کو ترقی کے ساتھ ساتھ گوادر کی ترقی کے لیے 6 ارب روپے جی ڈی اے کو فراہم کیے لیکن گوادر پھر بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے انہوں نے کہا کہ گوادر پدی زر روڈ اور دیگر کئی اسکیم نیشنل پارٹی کے مرہون منت ہیں اس موقع پر جان محمد بلیدی نے کہا کہ نیشنل پارٹی نہ کسی قبائلی اور نہ کسی سردار کی پارٹی ہے بلکہ نیشنل پارٹی ایک متوسط طبقہ کی نمائندہ جماعت ہے انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا گہوارہ عوام ہے جو باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوان کی یکجہتی کے بغیر ناممکن ہے انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم نے اگر یکجہتی کا مظاہرہ کیا تو کوئی بھی قوت بلوچ قوم کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈال سکتا اور کسی کو بھی یہ جرآت نہیں ہوگی کہ بلوچ وسائل کو غلط استعمال کریں انہوں نے پارٹی ورکروں کو پارٹی کا پیغام گھر گھر پہنچانے کی تاکید کی،پارٹی مرکزی رہنما رحمت صالح نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی مزدور طبقہ کے لیے ایک سیاسی ادارہ ہے اور ہمیں نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے بلوچ نوجوانوں کو نظریاتی اور سیاسی حوالے سے تیار کرنا ہے جب تک ہم سیاسی اور نظریاتی حوالے سے تیار نہیں ہونگیں ہم ان چیلنجز کا مقابلہ نہیں کرسکتے انہوں نے کہا کہ ھم۔جب تک سیاہ اور سفید کا فرق نہیں جانتے ہم تبدیلی نہیں لا سکتے جس دن بلوچ نے اپنی سیاست میں چاپلوسی سسٹم کو ختم کردیا تو وہ ایک تحریک کی آبیاری کریگا انہوں نے کہاکہ بلوچوں کو گماشتے کے پیچھے دوڑایا گیا نیشنل پارٹی ایک قومی جماعت اور اس کو مضبوط کرنا ہر بلوچ کا فرض ہے یہ بلوچ کے ہر طبقے کی زمہ داری ہے کہ وہ آج خود اے سوال کرے کہ ان پارٹیوں نے بلوچ قوم کو کیا دیا اور نیشنل پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں بلوچ قوم کو کیا دیا ہے انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی میں کوئی میر اور معتبر نہیں ہم سب فقیر اورسیاسی ورکر ہیں انہوں نے بلوچ قوم مایوسی سے نکل جائے اور گوادر کے لوگ مایوسی سے نکل جائیں کیونکہ میر اشرف حسین کی شکل میں انھیں ایک بہترین قائد ملا ہے ساحل کے لوگ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ ساحل کے لوگوں کے وسائل کو ایڈرس نہیں کیاگیااس موقع پر پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری جان بلیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی بلوچوں کی قومی جماعت ہے یہ کسی قبائلی سردار کی پارٹی نہیں ہے یہاں لیڈر شپ عام طبقے سے ہے نیشنل پارٹی کے ورکر ہی پارٹی کے لیڈر ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تبدیلی لانے والا بلوچ تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ ہے شمولیتی پروگرام سے میڈم طاہرہ خورشید،واجہ ابوالحسن،سابق جسٹس شکیل بلوچ,میراشرف حسین،یوسف عبدالرحمان،محسن بھٹو،انجینئر حمید بلوچ،اور سلام بلوچ نے خطاب کیا۔جبکہ اس دوران بشیر عصا،اقبال عصا،منظور مقبول،جلیل احمد سمیت سینکڑوں لوگوں نے نیشنل پارٹی سے شمولیت اختیار کرلی۔


