50کروڑ نوری سال کے فاصلے پر موجود کارٹ ویل کہکشاں کی تصویرعکس بند
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کارٹ ویل کہکشاں کی خوبصورت تصویر عکس بند کی جس میں ستارے کے بننے کے عمل اور کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول کے متعلق نئی تفصیلات سامنے لائیں گئی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹیلی اسکوپ کے طاقتور انفراریڈ کیمرا نے کارٹ ویل اور اس کے ساتھ موجود دو چھوٹی کہکشاں کی تفصیلی تصویر عکس بند کی جبکہ ان کے پس منظر پر کئی اور کہکشائیں بھی موجود ہیں۔ یہ تصویر کارٹ ویل کہکشاں کے حوالے سے ایک نیا نظریہ پیش کرتی ہے کہ یہ کہکشاں اربوں سالوں کے دورانیے میں کس طرح تبدیل ہوئی۔زمین سے50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر اسکلپٹر جھرمٹ میں موجود کارٹ ویل کہکشاں کا یہ ایک نایاب نظارہ ہے۔ اس کی شکل، جو ریڑھی کے پہیے سے مشابہت رکھتی ہے، اس میں ہونے والے شدید وقوعات کی وجہ سے ایسی ہے۔ خلائی علاقوں میں کہکشاں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کئی مختلف اور چھوٹے وقوعات جنم لیتے ہیں۔ کارٹ ویل کے ساتھ بھی یہ وقوعات پیش آتے ہیں۔تصادم سے واضح طور پر کہکشاں کی شکل اور ڈھانچہ متاثر ہوا ہے۔ اس کہکشاں میں دو چھلے موجود ہیں۔ ایک اندرونی جانب روشن دائرہ اور ایک اطراف میں موجود رنگین دائرہ ہے۔ یہ دونوں چھلے تصادم کے مرکز سے باہر کی جانب بڑھتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے تالاب میں پتھر پھینکا جائے تو مرکز سے لہریں سفر کرنا شروع کرتی ہیں۔ان مخصوص خصوصیات کی وجہ سے ماہرینِ فلکیات اس کو رِنگ گلیکسی کہتے ہیں۔ کہکشاں کا یہ ڈھانچہ ہماری ملکی وے جیسی اسپائرل گلیکسیز کی نسبت کم عام ہے


