نسلیں تیل کے کاروبار سے نہیں تعلیم سے ترقی کرتی ہیں، اسد بلوچ

پنجگور (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل و صوبائی وزیر میر اسد اللہ بلوچ نے کہا ہے کہ بی این پی عوامی اپنے عوام کے حقوق کی جدوجہد کررہی ہے بلوچستان کے عوامی کی بنیادی حقوقِ کی تحفظ ہماری سیاست کا مقصد ہے پنجگور کے غریب و ہر طبقہ کے لوگ اپنی قومی شناخت کو زندہ رکھنے کیلئے ایجوکیشن کو ترجیح دیں بارڈر و زمیاد ہمارے قوم کی مستقبل نہیں ہے اگر بین الاقوامی صورت حال میں امریکی پابندی کے تناظر میں بارڈر بند ہو جائے تو آپ کا کیا ہوگا، سب کو مل کر سوچنا ہوگا ایک ایسی راہ جس پر آپکا مستقبل درخشاں ہو وہ راہ تعلیم کی راہ ہے، قوم تعلیم پر توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم جس بارڈر کے قریب زندگی گزار رہے ہیں، دنیا کے کسی ملک کا بارڈر اس طرح نہیں ہے دیگر ممالک میں بارڈر پر مارکیٹ بنی ہوئی ہیں دو طرفہ کاروبار ہورہا ہے لیکن یہاں کچھ اور پوزیشن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے رہائش گاہ پر مختلف جماعتوں سے مستعفی ہونے و بی این پی عوامی میں شمولیت کرنے والوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر میر اسد اللہ بلوچ نے مزید کہا کہ اس بارڈری کاروبار کو آسان بنانے کیلئے پنجگور کے چار انٹری پوائنٹ پر ہماری جدوجہد جاری رہے، گرچیدگی گزبستان شامل ہے تاکہ یہاں کے کاروباری لوگ اچھے طریقے سے کام کرسکیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں بارڈرکے علاقے کے تمام والدین سے گزارش کرتا ہوں صرف بارڈر کو اپنا مستقبل نہ بنائیں بلکہ کاروبار کے ساتھ اپنے بچوں کو پڑھائیں کیونکہ نسلیں تیل کے کاروبار سے نہیں تعلیم سے ترقی کرتی ہیں، جس قوم نے تعلیم کو اہمیت نہیں دی آج انکی زندگی اجیرن ہے ایک انجینئر ہزاروں زمباد کے کاروبار سے زیادہ طاقت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے ہمارا کام ہے خوشحال بلوچستان کی ترقی چیدگی سے آواران روڈ بیس ارب روپے کا ہے، اس کی منظوری ہوئی جس کی تکمیل سے پورے علاقے کی ترقی ہوگی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم اپنی قوم کو ترقی یافتہ قوم بنانا چاہتے ہیں انہیں بھکاری نہیں، انہیں انکے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش کررہا ہوں، اس لئے ہم نے پنجگور میں لاء کالج، یونیورسٹی، ایگریکلچرل یونیورسٹی، پولیٹیکل کالج بنائے ہیں یہ تعلیمی درسگاہیں قوم کا مستقبل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں