ایران میں مہنگائی کیخلاف پر تشدد احتجاج، مظاہرین کے ہاتھوں سیکورٹی اہلکار جاں بحق، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں اتوار کے روز شروع ہونے والے مظاہرے پر تشدد رنگ اختیار کرچکے ہیں اور ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق مظاہروں کے دوران ایرانی سیکورٹی فورس کا ایک اہلکار جاں بحق ہوگیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے صوبہ لورستان کے نائب گورنر سعید پورعلی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر کوہدشت سے تعلق رکھنے والے بسیج کے 21 سالہ اہلکار کو بدھ کی رات ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے ہلاک کر دیا۔ یہ اتوار کو دارالحکومت تہران سے شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد پہلی سرکاری طور پر تصدیق شدہ ہلاکت ہے۔ بسیج ایک رضاکار پیراملٹری فورس ہے جو ایران کی پاسداران انقلاب سے منسلک ہے۔ سعید پورعلی کے مطابق کوہدشت میں مظاہروں کے دوران پتھراﺅکے واقعات میں 13 پولیس اہلکار اور بسیج کے ارکان زخمی بھی ہوئے۔ ایران میں جاری مظاہروں کا آغاز تہران میں دکانداروں کی جانب سے مہنگائی اور معاشی جمود کے خلاف ہڑتال سے ہوا تھا جس کے بعد یہ دیگر شہروں تک پھیل گئے، منگل کے روز کم از کم 10 جامعات کے طلبہ بھی احتجاج میں شامل ہو گئے تھے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی گزشتہ روز حکومت سے معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔


