سیاہ فام خاتون کا قتل،چار امریکی پولیس اہلکاروں پر فرد جرم عائد

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمہ انصاف نے 2020ئ میں کینٹکی میں واقع گھر پر چھاپے کے دورن ماری گئی سیاہ فام خاتون بریونا ٹیلر کی موت کے الزام میںچارپولیس افسران پر فرد جرم عائد کردی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ کا کہناتھا کہ افسران کو وفاقی کی جانب سے شہری حقوق کی خلاف ورزیوں، غیر قانونی سازش، جھوٹے بیانات دینے اور طاقت کے غیر آئینی استعمال اور رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم الزام لگاتے ہیں کہ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں بریونا ٹیلر کی موت واقع ہوئی ورنہ وہ آج زندہ ہوتیں۔مئی 2020 میں منیاپولس میں سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں قتل ہونے والے 46 سالہ سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ اور بریونا ٹیلر کی اموات امریکا سمیت دیگر ممالک میں نسلی بنیادوں پر کی جانے والی ناانصافی اور پولیس کی سفاکیت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کی لہر کا باعث بن گئی تھیں۔26 سالہ نریونا ٹیلر اور اس کا بوائے فرینڈ کینتھ واکر 13 مارچ 2020 کو اپنے اپارٹمنٹ میں سو رہے تھے جب انہوں نے آدھی رات کے وقت دروازے پرشور سنا۔کینتھ واکر نے یہ سمجھتے ہوئے کہ ان کے گھر پر حملہ کیا گیا ہے، اپنی بندوق سے فائر کر دیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس افسر زخمی ہو گیا۔منشیات سے متعلق جرائم میں گرفتاری کا وارنٹ رکھنے والی پولیس نے جواب میں 30 سے زیادہ گولیاں چلائیں جن سے بریونا ٹیلر کو جان لیوا زخم آئے اور وہ دم توڑ گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں