بارشوں اور سیلاب پر بلوچستان اسمبلی میں ایک تحریک التواءجمع
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی میں ایک تحریک التواءجمع کرادی گئی ہے جس میں حالیہ بارشوں و سیلاب سے نقصانات اور عام کو ریلیف کی فراہمی کےلئے س اہم اور عوامی نوعیت کے حامل مسئلے کو زیر بحث لا نے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔تحریک التواءکے متن میں کہا گیا ہے کہ ہم ذیل اراکین اسمبلی قواعدوانضباط کار مجریہ 1974کے قاعدہ نمبر 70کے تحت تحریک التواءکا نوٹس دیتے ہیں کہ 2جولائی 2022سے صوبہ بھر بالخصوص ضلع کوئٹہ،پشین،قلعہ سیف اللہ،ژوب،شیرانی،موسیٰ خیل،ہرنائی،بارکھان،قلعہ عبداللہ،واشک،پنجگور،تربت،آواران،ہنہ اوڑک،زڑخو،مچھ بولان،سبی اور دیگر علاقوں میں حالیہ تباہ کن بارشوں،سیابی ریلوں اور طوفانی بادوباران کی وجہ سے ہزاروں گھر،سینکڑوں گاﺅن اور دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور مچھ پل کا آدھا حصہ اسی سیلابی ریلے کی نظر ہوگیا جس سے مچھ شہر سے تمام صوبے کا رابطہ منقطع ہوگیا ایک ا ندازے کے مطابق صوبہ بھر میں سو سے زائد قیمتی جانوں کا ضیاع اور سینکڑوں ال مویشی سیلاب کی نظر ہوگئے اور مختلف جگہوں پر سیلابی ندی نالوں میں طغیانی آنے سے مزید تباہ ہوی تمام علاقوں میں تیار باغات،فصلات اور بندات مکمل طور پر تباہ اور اکثر علاقوں میں بندات ٹوٹ گئے ہیں جس سے عوام کی معاشی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے ساتھ ہی جن کیلئے پی ڈی ایم اے،این ڈی ایم اے کی امدادی کارروائیاں،حکومتی وضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی خاطر خواہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں لہٰذا علاقے کی عوام کو بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصانات اور عام کو ریلیف فراہم کرنے کی بابت اسمبلی کی کارروائی کراس اہم اور عوامی نوعیت کے حامل مسئلے کو زیر بحث لا یا جائے۔


